مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 87 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 87

ہے۔مگر پھر بھی ہم اس طرح سے چھٹے رہتے ہیں جیسے بچہ ماں سے۔اور ہر گنہ الگ ہونا نہیں چاہتے۔یہاں تک کہ ہم کو زبر دستی اور اکثر اوقات خلاف مرضی اس سے الگ کیا جاتا ہے۔حالانکہ اگر موت نہ ہوتی۔تو ہم اپنے بڈھوں کو اور ناکارہ لوگوں کو شاید اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے۔یا دنیا سے تنگ آ جانے کی وجہ سے خود کشیاں کرتے پھرتے دنیا کی زندگی اور اس کے دُکھ آخر کار اس میں ہمارا رہنا دو بھر کر دیتے ہیں خدا تعالیٰ کی کمالی حکمت نے ہمارے لئے ایسا انتظام فرمایا کہ ہم خود ایک عمر کے بعد عالم دنیا سے اکتانے لگتے ہیں۔لیکن چونکہ دوسرا حاکم بن دیکھا ہوتا ہے۔اور شاید آخرت پر کامل یقین میسر نہیں ہوتا۔اور اپنے گناہوں کا ڈھیر سامنے نظر آتا ہے۔اس لئے ہم کو دوسرے جہاں کی طرف انتقال کرتے ہوئے سخت ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔جان تکہ عالم بقا ہی اصل جگہ ہے۔جہاں صفات الہیہ اپنی پوری شدت کے ساتھ ہم پر جلوہ گر ہونے والی ہوتی ہیں۔آخرت کی ربوبیت دنیا کی ربوبیت سے شدید تر ہے۔آخرت کا رحم دنیا کے رحم سے ارفع تر ہے۔اور آخرت کی مالکیت دنیا کی ملکیت سے اعلیٰ ترین۔موت کو صرف ایک دروازہ ہے جو ایک خار دار سرنگ کے سرے پر ہے۔اور دوست کو دوست سے اور بندہ کو اپنے مالک سے ملاتا ہے۔پس چند کانٹوں کی خراشوں سے ڈر کو حریم ازلی کی طرف نہ جانا یا نعمت ابدی سے منہ پھیر لیا۔اور اس محسن کے ساتھ والہانہ شوق محبت اور عشق کے ساتھ قدم نہ اٹھانا محض بے وقوفی اور ناداتی ہے۔وہاں کا خدا دنیا کے خُدا سے زیادہ مہربان ہے۔زیادہ کریم ہے۔زیادہ غفور ہے۔زیادہ منعم ہے۔زیادہ مجیب و قریب ہے۔زیادہ رؤف ہے۔زیادہ نافع ہے۔زیادہ حقان ومستان ہے۔اور زیادہ سے زیادہ ہماری خواہشیں پوری کرنے والا ہے۔اور یقینا ویسا نہیں ہے جیسا غیر مذاہب والوں نے اس کو سمجھ رکھا ہے یا ہم میں سے اکثر نے اس کو ہوا بنارکھا ہے۔اس نے تو انسان کو بہشت کے لئے اور