مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 88
AL اپنی صفات کے فیضان کے لئے پیدا کیا ہے۔پس یہ باطنی اپنے محسن پر کیوں کہ روا رکھی جا سکتی ہے کہ وہ ہم کو وہاں دائمی دکھوں کے لئے لے جاتا ہے۔میں نے دنیا میں تکالیف ابتلاء، مصائب اور بیمار ایسے دیکھے مگر ان میں بھی خدا کے فضل اور اس کی رحمت کو ہر قدم پر محسوس کیا۔پس اب جبکہ بقائے الہی کا مقام قریب تر ہوتا جاتا ہے میں کیونکر آگے بڑھنے یا انتقال مقامی سے ڈر سکتا ہوں۔سواے عزیز و تم بھی اس رحمن رحیم خدا کی محسنانہ صفات پر ایمان بلکہ یقین رکھو۔اور موت کو صرف ایک سیٹرھی سمجھو کہ یہ نچلی منزل سے انسان کو بالاخانہ تک پہنچاتی ہے۔اللہ تعالیٰ بندہ کی کسی چیز کا محتاج نہیں۔نہ اس کے مال کا نہ اس کی عبادت کا۔وہ تو صرف اتنا چاہتا ہے کہ بندے اس کو ہی اپنا پیارا رت تسلیم کریں۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔اور اسی کو اپنا محسن۔اپنا مستم اپنا خیر خواہ اور اپنا مالک سمجھیں۔نہیں کیا اتنی سی بات کے لئے انسان اپنی عاقبت کو خراب کر سکتا ہے ؟ اس نے تو فرما دیا ہے کہ مَن قَالَ لا اله الا الله دخل الجنة- پس کیا اس کلمہ کے کہنے اور مان لینے سے جو محض حق ہی حق ہے۔کوئی انسان انکار کر سکتا ہے ؟ میں نے ایک عظیم الشان نبی سے لے کر دنیا کی ادنی ترین مخلوق کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔لیکن جو کرم۔جو رحم۔جو شفقت۔جو مروت اور جو احسان مجھے اپنے خداوند میں نظر آیا۔بخدا وہ ہر گز کسی دوسرے میں نظر نہیں آیا۔پس ایسے خدا کے نقاء سے اور اس کے روبرو پیش ہونے سے ڈبونے کے کیا معنی ہے دنیا کے آرام اور نعمتیں ان آراموں اور نعمتوں کا کیا مقابلہ کر سکتی ہیں جو اس نے ہمارے لئے اگلے جہان میں مقدر کم رکھی ہیں۔نیک اخلاق اور مذہبی عبادتیں تو محض ہمارے اپنے قائدہ کے لئے ہیں۔نہ کہ خدا کے کسی فائدہ کے لئے ہیں۔لیکن اگر ان میں کچھ کمی رہ جائے تو اسے دعاؤں سے پہدی کرد مگر اپنے آقا کا دامن کسی حالت میں نہ چھوڑو ، کیونکہ ایسی وفاداری پیر حال تمہارے لئے با برکت اور سود مند ہو گی۔