مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 82 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 82

Ai إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا اَلَيْهِ رَاجِعُون كل من عليها نان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والاكرام حضرت میر صاحب کی المناک وفات کی خبر آناً فاناً تمام محلوں میں پھیل گئی۔اور بہت سے احباب آپ کی کو سٹی پر جمع ہونے شروع ہو گئے۔آپ نے عرصہ ہوا اپنی تجہیز تکفین کے متعلق خود مفصل ہدایات وصیت کے طور پر تحریر فرما رہی تھیں۔حتی کہ اپنے کفن کا بھی انتظام فرما لیا تھا۔چنانچہ رات کو ہی آپ کی وصیت کے مطابق حضرت بھائی عبد الرحیم صاحب نومسلم مکرم شیخ محمد اسماعیل صاحب اور مکرم حکیم عبداللطیف صاحب شہید نے آپ کو غسل دیا۔اور تجہیز و تکفین کی۔اگلے دن ( ۱۹ جولائی کو صدر انجمن احمدیہ کے تمام دفاتر اور تعلیمی اداروں میں تعطیل کر دی گئی۔صبح ہی سے احباب اور خواتین آپ کی کوٹھی پر جمع ہونے شروع ہو گئے۔آٹھ بجے کے قریب سیدنا مصلح موجود ایدہ اللہ تعالیٰ بھی تشریف لے آئے۔اور ایک مجمع کے درمیان آپ کا جنازہ اٹھایا گیا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ یا وجود نا سازی طبع کے جنازہ کے ہمراہ پیدل مقبرہ بہشتی تشریف لے گئے۔راستے میں مجمع پر لمحہ بڑھتا گیا۔ہر شخص جنازہ کو کندھا دینے اور اس طرح ایک ایسے وجود کا آخری حق الخدمت ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔جو عمر بھر نہایت بے نفسی کے ساتھ بنی نوع انسان کی دینی اور دنیوی خدمت کرتا رہا۔جب جنازه باغ حضرت مسیح موعود میں پہنچا۔تو حضرت جاب ایدہ اللہ نے اپنی نگرانی میں صفوں کو درست کرایا۔اور پھر ایک بہت بڑے مجمع کے ہمراہ جو انہیں لمبی صفوں پرمشتمل تھا۔نماز جنازہ ادا فرمائی۔نماز جنازہ میں شامل ہونے والے افراد کی تعداد کا اندازہ چھ اور سات ہزار کے درمیان ہے۔نماز جنازہ کے بعد حضرت صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے کفن کا منہ کھولا اور حضرت میر صاحب کی پیشانی پر بوسہ دیا۔پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اور پھر خاندان کے دیگر افراد نمی باری باری بوسہ دیا۔اس کے بعد حضور جنازہ کے قریب