مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 74
۷۳ آپ کی سیرۃ کے ایک موقر گواہ جناب محترم شیخ محمد اسمعیل پانی پتی صاحب تحریر فرماتے نہیں۔اُستاذی المحترم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل عجیب و غریب قابلیتوں اور حیرت انگیز صلاحیتوں کے مالک تھے وہ اگرچہ ہر لحاظ سے ایک ممتاز حیثیت اور ایک بلند شخصیت رکھتے تھے لیکن انہوں نے کبھی اپنے آپ کو بڑا آدمی نہ سمجھا اور نہایت فروتنی اور بڑی خاکساری کے ساتھ اپنی زندگی گزاری ان کی صورت فرشتوں جیسی اور ان کی سیرت ولیوں جیسی تھی۔وہ نہایت ہنس نکه نهایت ملنسار، نهایت خوش گفتار اور نہایت بذلہ سنج اور نہایت خوش اخلاق انسان تھے۔جو شخص ایک مرتبہ ان سے مل لیتا تھا وہ ہمیشہ کے لئے ان کا گرویدہ ہو جاتا تھا۔اُن کی باتوں میں ایسی مٹھاس اور ان کے کلام میں ایسی شیر بنی تھی کہ مال لے ختیار ان کی طرف کھینچے چلے جاتے تھے وہ اپنے اعلیٰ اوصاف اور اپنی بہترین عادات کے مائے سلف صالحین کا ایک دلکش نمونہ تھے۔ہمدردی خلائق اور بہبودی اخوان ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔نیکی و شرافت احسان و مروت کا وہ ایک مجسمہ تھے عقل و دانش اور فہم و فراست میں وہ اس حدیث نبوی کے مصداق تھے کہ انتو بِفَراسَةِ المومِنِ وَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُور الله ان کے پاس بیٹھنے اور ان کے پر حکمت کلمات سننے سے جو روحانی سرور حاصل ہوتا تھا اس کی کیفیت الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی ان کا انداز بیاں نہایت دلچسپ اور ان کی گفتگو نہایت پُر لطف ہوتی تھی۔پارسائی اور پرہیز گاری ان کی طبیعت ثانیہ بن چکی تھی۔اُحد اور اتقا کی روشن کر نہیں ان کے حسین چہرے سے پھوٹ پھوٹ کر نکلتی تھیں۔ان کی شفاف پیشان سيماهم في وجوههم مِنْ أَثَرِ السُّجُود کا نقشہ پیش کرتی تھی طبیعت نہایت سادہ پائی متقی غرور و تکبر فخر وتبختر ان میں نام کونہ تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی الفت اور قرآن کی محبت ان کی رگ رگ میں بھری ہوئی تھی وہ میں والہانہ طور پر حضور