مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 718
آپ فرماتے ہیں در سب سے بڑا خطرہ جس کا احساس مجھے ہونے لگا ہے وہ یہ ہے کہ جب ایسے دُعا کے طالبوں کو میں یہ کہتا ہوں کہ دیکھو حضرت امام جماعت جو ہمارے سردار ہیں۔ان سے دُعا کراؤ۔ان کا رتینہ خدا نے اتنا بلند کیا ہے کہ بسبب حسن و احسان میں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد کا منظر ہونے کے اور سبب ان کی جانشین ہونے کے وہی حق رکھتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف بار بارا اور ہر مصیبت اور تکلیف میں دعا کی درخواست کریں۔کیونکہ دکا در اصل۔۔۔۔کا امتیازی نشان یا معجزہ ہے۔اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ محمد ی نے میشہ دکھا کے مقابلہ اور کثرت قوایت دعا کا چیلی یار یار دیا ہے۔میں اس نشان کی قدر کرو ہمیشہ حضرت صاحب سے دعا کرایا کرو۔اس پہ جو جواب مجھے ملتے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں اور وہ جھو گا ایسے رنگ کے ہوتے ہیں۔کہ آپ نے واقعی یہ درست فرمایا مگر دیکھو کہ حضرت صاحب کو اتنے رقعے پڑھنے کی فرصت یہ نگرد کہاں اتنی بڑی جماعت بن گئی ہے کہ حضرت صاحب کو کیا پتہ کہ ہم کون ہیں۔غریبوں کو بیڑے ہو آدمی پہنچانتے بھی کہاں ہیں۔اور پھر ان کو دن رات امامت کے کام ہوئے انہیں فرصت کہاں ملتی ہے۔جو ہم جیسے حقیروں کی طرف توجہ کریں۔میر صاحب فرماتے ہیں یہ جواب جھوٹ اور سفید جھوٹ اور خطر ناک جھوٹ ہے۔حضرت امام جماعت ہر خط اور سر رقعہ پڑھتے ہیں۔اور سب سے زیادہ اس کا مضمون یا د رکھتے ہیں اور ہر شخص کو دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ جانتے اور پہچانتے ہیں اور باوجو دن رات کام میں مصروف ہونے کے حقیر سے حقیر شخص کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں۔اور بارہا انہوں نے اس جھوٹ کی علی الاعلان مجلسوں کے موقعوں پر تردید فرمائی ہے کہ بعض لوگ ہیں پھر وہی بات دئے جاتے ہیں۔(اس کے بعد فرماتے ہیں کہ اپنے لئے آپ بھی دعا کرو۔اور کہ قبولیت دعا کو حضرت امام جماعت کی طرف منسوب کرد۔اس مضمون کے آخیر پر آپ فرماتے ہیں۔