مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 716
۷۱۵ سے زیادہ ایمان اور اس سے زیادہ یقین رکھنا چاہیے جتنا ہم انسان کی تدبیروں پر کرتے ہیں کیونکہ دعا گو وہ روحانی چیز ہو بہر حال ایک انسانی تدبیر ہے۔پس ہر گز یہ نہیں کہنا چاہیئے کہ میرے ہاں دعاؤں سے بیٹا ہوا۔یا میں دعاؤں سے نو کر ہوا۔یا میں دعاؤں سے صحت یاب ہوا۔بلکہ پہلے یہ اقرار کرنا چاہیئے کہ خدا کے فضل سے اور حضرت باقی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی دعا سے یہ بیٹا ہوا۔اور خدا کے فضل سے اور حضرت امام جماعت کی دعاؤں سے مجھے صحت ہوئی۔پس یا درکھو کہ ایسانہ ہو کہ خدا تعالیٰ کے اپنے فضل و کریم کو رفتہ رفتہ بھول جاؤ اور سارا انحصار انسانی کوششوں پر بیان کرنے لگو۔اور آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ کا نام اس کی نعمتوں سے الگ ہو جائے۔بے شک دعاؤں کا بھی صاف نام لو اور بڑے زور سے لو۔مگر فصل کرنے والی ذات کی طرف سے توجہ نہ پھرے۔میں الفضل میں درخواست دعا کے کالم کو الترانا دیکھتا ہوں اور یہ بات خصوصا دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ اس بات کو کس رنگ میں لیتے ہیں۔مگر سالہا سال میں شائد ایک وقعہ بھی یہ نہیں دیکھا کہ جہاں دعا سے اولاد ہونے کا ذکر ہو۔وہاں اللہ میاں کا بھی کوئی حصہ نمایاں طور پر اس میں ظاہر کیا گیا ہو۔پس اختیاط لازم ہے۔- درخواست دعا میں دُعا کے لئے اپنے بھائیوں سے درخواست کرنے کو بہت اچھا سمجھتا ہوں۔اس سے آپس میں تعلق بڑھتا ہے اور قربانی کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔کیونکہ دعا بعض اوقات قربانی کی کیفیت کو چاہتی ہے۔اور جو لوگ سرسری اسی وقت جواب میں دعا کر دیتے ہیں۔اور کہہ دیتے ہیں کہ اللہ فضل کرے۔وہ بھی جائز ہے۔اور ایسی دعائیں بھی منظور ہوتی رہتی ہیں۔نیز بار بار ذکر دعا سے دعا کا خیال مردوں کو عورتوں کو اور بچوں کو اتنا ہو جاتا ہے کہ دعا ایک قومی شعار بن جاتی ہے۔مگر پھر بھی بعض لوگوں کا طرز ادا یا طرزز در خواست ایسی ناگوار معلوم ہوتی ہے کہ اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔مثلاً یہی کہ ہاتھ پکڑ کر وعدے لینے لگے۔یا کوئی فجر سے پہلے کی عبادت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو اسے بار بار یہ کہنا