مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 687
خونوں کا بوجھ لے کر بھی جنت میں چلا گیا۔اب وہ اس بوجھ کو کہاں پھینکے بے پس انسانی فضل اور خدا کا کلام دونوں ایسے شخص کے لئے جہنم کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں۔اور اس صورت میں خواہ غیرت یا آئندہ خون نہ کر سکنے کا سوال پیدا بھی نہ ہو۔مگر پچھلی ستر ضرور ملنی چاہیئے محض اعمال ہی جہنم کا مطالبہ کرتے ہیں۔خواہ اس میں شفا خانہ والا حقہ اُڑا بھی دیا جائے ، ایک شخص نے زنا کیا۔اور پہلی مرتبہ ہی اُسے آتشک اور سوناک ہو گیا۔یہاں تک کہ وہ ساری عمر دکھوں اور زخموں میں میشکن رہا۔اولاد سے بھی محروم رہا۔غرض اس کی زندگی ایک دو رخ میں کئی۔ایک دوسرا شخص ساری عمرید کاری کرتا رہا۔مگر بعض وجوہ سے اُسے کوئی بیماری نہ لگی۔اولاد بھی ہوئی صحت بھی اچھی رہی۔تو یہ بھی نہ کی۔اب بتائیے یہ ہزاروں دفعہ کا زانی کیا یونہی دندناتا جنت میں چلا جائے گا۔صرف اس بات پر کہ عبرت لینے والا کوئی نہیں ہے یا آئندہ یہ گناہ دوسرے جہان میں کر نہیں سکتا۔يقيناً معقل حجاب دے گی۔کہ جیسا جہنم پہلے شخص کو ملا ہے۔اس سے ہزار کی جہنم دوسرے کے لئے اگلے جہان میں ہونا چاہیئے۔تیسرا جواب یہ ہے کہ وہاں عبرت بھی موجود ہے۔دوزخ میں لوگ جائیں گے۔ان میں سے کوی کسی گناہ کا مرکب ہوگا کوئی کسی گناہ کا جب ایک چور اپنی چری کے عوض جہنم میں تکلیف اٹھا رہا ہوگا۔تو اُس کے دیگر ساتھی جو جو نہیں ہونگے بلکہ صرف جوئے کی وجہ سے وہاں ہونگے۔انکو چور کے حال سے حیرت ہوگی۔ان کو بے شک چوری کی ستر نہیں ملی۔کیونکہ انہوں نے عملاً کوئی چوری نہیں کی تھی۔لیکن ان میں بہت سی خیانتیں منفی طور پر موجود تھیں۔اور موقع پا کر وہ چوری بھی کر سکتے تھے کیونکہ ان کا تزکیہ نفس نہیں ہوا تھا۔پس ایسا جوئے باز اس چور سے عبرت پکڑ کر اپنا تزکیہ نفس ان دیگر گنا ہوں سے بھی کرے گا۔جو اس کے اندر مخفی طور پر موجود تھے۔گر ظاہر نہیں ہوئے تھے۔اس طرح سے جہنی اپنی اپنی سزائیں بھی پائیں گے اور دوسروں سے عبرت بھی حاصل کریں گے۔اپنی سزا اور دوسروں سے عبرت ان کے کامل تزکیہ کا باعث ہوگی۔پھر وہ جنت میں چلے جائیں گے۔یہیں عبرت کا منتصر بھی دوزخ کی سزاؤں میں موجود ہے۔