مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 688 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 688

۶۸۷ پوتھے یہ کہ خواہ حیرت نہ ہو۔اور خواہ آئندہ وہاں گناہ کرنے کا موقعہ بھی نہ مل سکے۔تب بھی حقوق العباد میں میں قدر ایک مجرم نے دوسروں کو دکھ دیا ہے اتنادُ کھ بطور بدلہ کے اس کے نفس کو بھی سہنا چاہیئے۔پانچویں یہ کہ تکالیف غیر متز کی انسان کی تکمیل نفس کا موجب ہوتی ہیں۔اس طرح مدیریت بھی ان لوگوں کی روح کی تکمیل کی جگہ ہے جو دنیا میں اپنے نفس کی تکمیل د ترقی کے مدارج طے نہ کر سکے تھے پس جبرت وغیرہ کا اعتراض قائم نہ بھی رہے تب بھی دیگر دیو ہات سے ایک مجرم کا جہنم میں جانا ضروری ہے۔پوچھا جاتا ہے کہ کیا جنتی اور دوزخی ایک ہی جگہ رہ سکتے ہیں ؟ ہاں یہ ممکن تو ہے۔کیونکہ جنت میں روحانی اور جسمانی الخامات ہیں۔اورجہنم میں حسرت کی آگ دل کا غم اور جسمانی تکالیف ہیں۔پس جس طرح اس دنیا میں دونوں قسم کے لوگ پہلو یہ پہلو رہ سکتے ہیں۔اسی طرح یہ بات وہاں بھی ممکن ہے۔لیکن میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ جنت اور دوزخ بالکل الگ الگ مقام ہوں گے۔کیونکہ ایک تو قرآن وحدیث میں دونوں مقامات کو بالکل الگ الگ اور ممتاز طور پر علیحدہ علیحدہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔مگر ایک اور دلیل بھی ہے۔وہ یہ کہ ایک قلیل عرصہ کے لئے ایک خوش و خرم انسان ایک معموم انسان کے پاس رہ سکتا ہے۔یا ایک بیمار ایک تندرست کے ساتھ اکٹھے بسر کر سکتا ہے۔لیکن نہایت لمبے عرصہ اور مدت دراز تک یہ صحبت ناممکن ہے۔بیمار نمیگین مغضوب اور مصیبت زدہ کا قریب ایک جینیتی کے عیش کو ہر حال مکت را در متعفن کر دے گا۔اور اس کی زندگی محض ایک دوزخی انسان کے قرب کی وجہ سے تلخ ہونی شروع ہو جائے گی۔پس مقلاً بھی محنتی اور دوزخی کا ایک دوسرے سے دور دور الگ رہنا ضروری ہے اور نقلاً تو یہ ثابت ہے ہی۔واللہ اعلم بالصواب • اگر جنت اور دوزخ محض روحانی ہی ہوتے تو کسی قدر ان کے ساکنین کے اکٹھے رہنے کا اسکان ہوسکتا تھا۔مگر جبکہ وہ روحانی اور جسمانی دونوں ہیں۔تو پھر مل مل کر ان کا رہنا نہایت