مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 67
44 ون لاہور سے کئی دوستوں کے خطوط آئے شاید وہ بیس کے قریب خط ہوں گے۔ہر ایک دوست نے اپنی خیر و عافیت سے اطلاع دی کہ ہم کو خدا وند تعالٰی نے اس آفت سے بچا لیا۔مگر میر محمد اسمعیل صاحب کا ایک خط بھی نہ آیا۔حالانکہ ان کی عادت تھی کہ ذراهی عجوبہ بات سے اپنی والدہ صاحبہ اور ہمشیرہ صاحبہ کو اطلاع دیا کرتے تھے۔پہلے دن تو اُن کی والدہ صاحبہ اور ہمشیرہ صاحبہ نے صبر کیا اور سمجھا کہ شاید کل خط آجائے گا۔پھر دوسرے روز بھی کوئی خط نہ آیا۔تب ان دونوں کا دل مارے غم کے دھڑکنے لگا۔اور سخت پریشانی ان کے لاحق حال ہوئی اور یہ سمجھا کہ اب خیر نہیں بشاید کسی مکان کے نیچے دیے گئے ہوں پھر تیسرے روز بھی کوئی خط نہ آیا۔اور کسی دوست نے بھی نہ لکھا۔کہ میرمحمد اسمعیل صاحب خیر و عافیت سے ہیں۔نیب اُن دونوں کی حالت مارے غم کے قریب موت کے ہوگئی اور حضرت کو دعا کے واسطے کہا۔حضرت نے ان کا سخت قلق اور رنج دیکھ کہ بہت توجہ سے دُعا کی۔تو جواب میں یہ الہام ہوا یہ اسسٹنٹ سرجن "۔اس وقت سمجھ نہ آیا۔کہ اس دُعا کے ساتھ اسسٹنٹ سرجن کا کیا علاقہ ہے۔بعد اس کے میر محمد اسمعیل صاحب آگئے۔اور ان سب کو تسلی ہوئی۔حضرت اماں جان پاتے اس الہام کو خوب یادر کھا اور وہ ہمیشہ فرمایا کرتی میں۔کہ اسمیل پاس ہو جائے گا۔کیونکہ جب زلزلہ کے وقت اس کی خیر و عافیت کے لئے دُعا کی گئی۔تو الہام ہوا۔کہ اسسٹنٹ سرجن۔اس کا یہ مطلب تھا کہ تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ وہ کسی مکان کے نیچے دب گیا ہے۔اس کے لئے تو مقدر ہے۔کہ وہ اسسٹنٹ سرجن ہو جائے۔غرض یہ موقع ایک نہیں۔بلکہ کئی طرح کی خوشیوں کا موقعہ ہے جس پر ہم صدق دل کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کو مبارک باد دیتے ہیں۔اور جناب میر ناصر نواب صاحب اور عزیزی میر محمد اسحق صاحب رضا اس کو ہمیشہ صحت و عافیت کے ساتھ رکھے) اور ان کی والدہ صاحبہ اور تمام احمدی برادران کو مبارکباد دیتے ہیں۔اور