مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 665
۶۶۴ (٥) محض اسباب پر ایمان رکھنا اور مسب الاسباب کا خانہ بالکل خالی رکھنا اسلام عَلَيْكُمْ - بِسْمِ اللهِ الْحَمْدُ لله۔انشاء اللہ وغیرہ کے اسلامی اقوال کا ترک کرنا اور ان کی جگہ گڈ مارننگ گڈ نائٹ - ٹانا۔بائی پائی وغیرہ فقرات کا رواج۔اتوار کو پبلک رخصت کا دن گھنا۔اسلامی رسوم کو لغو یا برا سمجھنا۔اور فیشن کو دین اور ایمان سے بڑھ کر جانتا۔دہریت کے مقائد۔بزرگوں کا ادب نہ کرنا۔کتوں سے شغف جذب جھوٹ کی کثرت اسلامی مسائل کو مغرب کے مذاق پر ڈھالنا۔خدا اور عاقبت کا خوف نہ ہونا۔صرف جسمانی فوائد اور دنیاوی لزائد میں منہمک رہنا۔حلال وحرام کی تمیز کا احساس مٹ جانا۔اسلامی معاشرتی مسائل پر مذاق اڑانا یا ان پر اعتراض کرتے رہنا۔کھڑے ہو کر پیشاب کرتا اور اس کی چھینٹوں سے احتیاط نہ رکھتا۔مغربی فلاسفروں اور مصنفوں کی عزت اپنی قوم و تن سیب کے بزرگوں اور مصنفوں سے زیادہ کرنا۔پیسے کمانے کے خیال کو سر دیگر خیال پر مقدم رکھنا دعاؤں کی قبولیت کو درہم اور خوابوں کی صداقت کو لغو یقین کرتا۔اپنے ملک کی عمدہ سے محمدہ پیداوار کو بھی مغرب کی اونی پیداوار سے کم درجہ کھینا۔فرض مغربیت میں اخلاق محض دکھا دا ہیں۔اور اپنی قوم کے لئے مخصوص ہیں۔سیاست محض دھوکا بازی ہے۔معاشرت کے معنی عیاشی کے ہیں۔اور نہ جب سے مراد دہریت اور نفسانی آزادی ہے۔اس مغربیت کا توڑ صرف وہ ایک مقدس کلمہ ہے جسے اس زمانہ کا بنی بطور علاج کے خدا کی طرف سے دنیا کے لئے لایا۔اور میں کو اس نے ان الفاظ میں ہمارے سامنے پیش کیا۔کہ : میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ا دید زنامه الفضل ۲ اگست ۱۱۹۴۲)