مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 617
الى أمر الله فَلَا تَتَعْجِلُوهُ (الخل (۲) ترجمه : (اسے شکرو ! اللہ کا حکم آیا ہی چاہتا ہے اس لیے (اب) تم اس کے جلد آنے کا مطالبہ نہ کرو۔میں بیان فرمایا گیا ہے۔اور وہی احیائے دین اور اقامتہ شریعیت کا نظارہ اس دنیا کو پھر دکھائیں گے جو حضور علیہ السلام کی معرفت پیدا ہونا مقدر ہے ایک سوال اور اس کا جواب ہاں اب صرف یہ معلوم کرنا باقی رہ گیا ہے کہ پھر اسے نظام کو بانٹے آسمان اور نئی زمین کا نام کیوں دیا گیا ہے۔اور کونسی چیز نئی پیدا ہوگی جو پہلے نہیں تھی۔کیونکہ شریعیت کا نظام تو پورا اور مکمل ساڑھے تیرہ سو سال سے موجود ہے۔لینی محل اور قصر شریعت تو بنا بنا یا تیار ہے۔پھر وہ نئی بات کیا ہے جس کا ہمیں انتظار ہے۔اور جس کے لئے اس وقت تمام عالم بے تاب اور بے قرار نظر آتا ہے۔پس جب نظام کو کا مصالحہ سامنے ہے اور اس کا میٹریل موجود ہے۔یعنی شریعت کرائے اسلامیہ اور قرآنی ہدایات تمام یا محفوظ و مضمون ہیں۔تو وہ کیا کمی ہے۔جس کی وجہ سے یہ پرانا نظام نیا ہو جائے گا۔یا نیا کہلاتے کا مستحق ہوگا ؟ کیونکہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں۔کہ کوئی مسلمان بھی کسی نئی شریعیت نئی حکومت یا نئی ہدایت کے ماننے کے لئے تیار نہیں۔اور تجربہ اور عقلاً خود ہم پر بھی واضح ہو چکا ہے کہ اسلامی اور قرآنی شریعیت اور نظام کے آگے اور اس کے مقابل میں خواہ کوئی نظام بھی ہو۔وہ ایک منٹ کے لئے بھی کھڑا نہیں ہو سکتا۔اس صورت حالات میں ہر شخص یہ کہ سکتا ہے کہ عجیب نظام تمہارے پاس موجود ہے تو اسے قائم کر دو۔دیر کیا ہے اور انتظار کس بات کا ہے یہ سوال نہایت معقول ہے۔لیکن ہم بھی اس کے جواب ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک کامل نظام ایک بہترین نظام ایک دائمی نظام واقعی موجود