مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 59 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 59

کی والدہ ہر دو زندہ ہیں۔۔( نزول اینچ ص ۲۳ ۲۳۳) حضرت میر صاحب کے الفاظ میں واقعہ کی وضاحت پڑھنے سے اُن کی فطری ماجری اور تقولی کے معیار کا اندازہ ہوتا ہے فرماتے ہیں۔واقعہ یہ ہوا کہ ان دنوں ہم پٹیالہ میں بطور اجنبیوں اور پردیسیوں کے رہتے تھے اور گھر کے صرف چار آدمی تھے یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت والدہ صاحبہ۔یہ خاکسار اور میر محمد اسحاق صاحب۔کہ اتنے میں حضرت والدہ صاحبہ کو بخار آنا شروع ہو گیا۔اور ساتھ ہی میر محمد اسحاق صاحب کو بھی۔والد صاحب قبلہ دفتر چلے جاتے تھے اور میں مدرسہ۔والدہ صاحبہ اپنی اور بچے کی بیماری کی وجہ سے سخت پریشان تھیں۔حتی کہ ایک دن تو میں نے یہ حال دیکھا کہ بخار کی گھبراہٹ میں کپڑے پھینکتی تھیں اور کبھی اُٹھتی اور کبھی بیٹھتی تھیں۔اور سخت بدحواس ہو گئیں تھیں۔- میر محمد اسحاق صاحب بھی بخار میں بے چین رہتے اور کبھی بے ہوش پڑے رہتے۔اس دن جب دوپہر کو میں اسکول سے آیا تو وہ اسی حالت میں تھیں۔فرمانے لگیں کارڈ نے کہ انھی قادیان خط لکھ دے میں کارڈاور قلم دوات لے آیا۔اس پر انہوں نے اسی گھبراہٹ میں مجھے کہا کہ اپنی آپا کو خط لکھو کہ تمہاری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور اسحاق کو کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے۔کسی آدمی کو فوراً بھیج دو۔میں نے پیشن گر تو دور کیا۔بلکہ کچھ پروٹسٹ بھی کیا۔انہوں نے اسی گھبراہٹ میں مجھے بھی کچھ سخت سست کہا۔اور کہا جو کچھ میں لکھواؤں وہی لکھ۔آخر میں میں نے ان کے رعب اور اصرار نے اور ان کی اپنی حالت سجران والی دیکھ کر وہی لکھ دیا۔پھر جب یہ مضمون لکھ چکا تو فرمانے لگیں۔جس کا مطلب قریباً یہ تھا کہ میں مرگئی تو یہ بھی ہے ماں