مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 569
کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیجئے۔یہ اندھے اور بہرے اور لنگڑے آدمی موجود ہیں میسیج کی طرح ان کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دیجئے۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم سب حیران تھے۔کہ دیکھئے اب حضرت صاحب اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔پھر جب حضرت صاحب نے اپنا جواب لکھوانا شروع کیا تو فرمایا کہ میں تو اس بات کو نہیں مانتا کہ مسیح اس طرح ہاتھ لگا کر اندھوں اور بہروں اور لنگڑوں کو اچھا کر دیتا تھا۔اس لئے مجھ پر یہ مطالبہ کوئی حجت نہیں ہو سکتا۔ہاں البتہ آپ لوگ مسیح کے بجرے اس رنگ میں تسلیم کرتے ہیں اور دوسری طرف آپ کا یہ بھی ایمان ہے کہ جس شخص میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو وہ درسی کچھ دکھا سکتا ہے جو مسیح دکھاتا تھا۔پس میں آپ کا بڑا شکر گذار ہوں کہ آپ نے مجھے اندھوں اور پیروں اور لنگڑوں کی تلاش سے بچا لیا اب آپ ہی کا تحفہ آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے کہ یہ اندھے بہرے اور لنگڑے حاضر ہیں۔اگر آپ میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہے تو مسیح کی سنت پر آپ ان کو اچھا کر دیں۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جب یہ فرمایا تو پادریوں کی ہوائیاں اُڑگئیں اور انہوں نے جھٹ اشارہ کر کے ان لوگوں۔۔۔۔۔کو وہاں سے رخصت کروا دیا۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ نظارہ بھی نہایت جیب تھا کہ پہلے تو عیسائیوں نے اتنے شوق سے ان لوگوں کو پیش کیا اور پھر ان کو خود ہی ادھر اُدھر چھپانے لگ گئے۔روایت ۳۲۹ میں نے کبھی حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کی زبان سے حصہ کی حالت میں بھی گالی یا کالی کا ہم رنگ لفظ نہیں سنا۔زیادہ سے زیادہ بیوقوف یا جاہل یا احمق کا لفظ فرما دیا کرتے تھے اور وہ بھی کسی ادنیٰ طبقہ کے ملازم کی کسی سخت غلطی پر شاذ و نادر کے طور پر۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے جہاں تک یاد ہے حضرت صاحب کسی ملازم کی سخت فصلی یا بے وقوفی پر جانور کا لفظ استعمال فرماتے تھے جس سے منشاء یہ ہوتا تھا کہ تم نے جو فیل کیا ہے۔یہ انسان کے شایان شان نہیں۔بلکہ جانوروں کا سا کام ہے۔