مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 540
۵۳۹ مکھن ہے۔مچھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔مکی کی روٹی بہت مدت آپ نے آخری عمر میں استعمال فرمائی کیونکہ آخری سات آٹھ سال سے آپ کو دستوں کی بیماری ہو گئی تھی اور ہضم کی طاقت کم ہوگئی تھی۔علاوہ ان روٹیوں کے آپ شیر مال کو بھی پسند فرماتے تھے اور باقرخانی قلیہ وغیرہ غرض جو جو اقسام روٹی کے سامنے آجایا کر تے تھے آپ کسی کو رو نہ فرماتے تھے۔سالن آپ بہت کم کھاتے تھے۔گوشت آپ کے ہاں دو وقت پکتا تھا مگر دال آپ کو گوشت سے زیادہ پسند تھی۔یہ دال ماش کی یا اور دھکی ہوتی تھی جس کے لئے گورداسپور کا ضلع مشہور ہے۔سالن ہر قسم کا اور تو کاری عام طور پر ہر طرح کی آپ کے دستر خوان پر دیکھی گئی ہے اور گوشت بھی ہر حلال اور طیب، جانور کا آپ کھاتے تھے۔پسندوں کا گوشت آپ کو مرغوب تھا اس لئے بعض اوقات جب طبیعت کمزور ہوتی تو نیتر فاختہ وغیرہ کے لئے شیخ عبدالرحیم صاحب تو مسلم کو ایسا گوشت مہیا کرنے کو فرمایا کیتے تھے۔مرغ اور بٹیروں کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا۔مگر بٹیرے جب سے کہ پنجاب میں طاعون کا زور ہوا کھانے چھوڑ دیے تھے۔بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔اور بنی اسرائیل میں ان کے کھانے سے سخت طاعون پڑی تھی۔حضور کے سامنے دو ایک دفعہ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا مگر آپ نے فرمایا کہ جائنہ ہے۔جس کا جی چاہے کھا لے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ اس سے کہ بہت فرمائی اس لئے ہم کو بھی اس سے کہ بہت ہے۔اور جیسا کہ دہاں ہوا تھا یہاں بھی لوگوں نے آپ کے مہمان خانہ بلکہ گھر میں بھی کچھ بچوں اور لوگوں نے گوہ کا گوشت کھایا مگر آپ نے اُسے قریب نہ آنے دیا۔مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھا لیتے تھے۔سالن ہو یا بھنا ہوا کباب ہو یا پلاؤ مگر اکثر ایک ران پر ہی گزارہ کر لیتے تھے اور وہی آپ کو کافی ہو جاتی تھی بلکہ کبھی کچھ بھی بھی رہا کرتا تھا۔پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے گئے ہوئے چاولوں کا اور