مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 532
۵۳۱ شوق نہ تھا۔آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپ کے پاس کپڑے سادے اور سلے سلائے بطور تحفہ کے بہت آتے تھے۔خاص کر کوٹ صدری اور پائجامہ قمیض وغیرہ جو اکثر شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری ہر عید بقر عید کے موقعہ پر اپنے ہمراہ نذر لاتے تھے وہی آپ استعمال فرمایا کرتے تھے۔مگر علاوہ ان کے کبھی کبھی آپ خود بھی بنوایا کرتے تھے۔عمامہ نواکثر خود ہی خرید کہ باندھتے تھے جس طرح کپڑے بنتے تھے اور استعمال ہوتے تھے۔اسی طرح ساتھ ساتھ خرچ بھی ہوتے جاتے تھے یعنی ہر وقت تبرک مانگنے والے طلب کرتے رہتے تھے۔بعض دفعہ تو یہ نوبت پہنچ جاتی کہ آپ ایک کپڑا بطور تبرک کے عطا فرماتے تو دوسرا بنوا کہ اس وقت پہنتا پڑتا۔اور بعض سمجھدار اس طرح بھی کرتے تھے کہ مثلاً ایک کپڑا اپنا بھیج دیا اور ساتھ عرض کر دیا کہ حضور ایک انتہا ہوا تبرک مرحمت فرما دیں۔خیریہ تو جہ معترضہ تھا۔اب آپ کے لباس کی ساخت سنے جھوٹا یہ کپڑے آپ زیب تن فرمایا کرتے تھے۔کر تہ یا قمیض ، پائجامہ ، صدر ہیں۔کوٹ اعمامہ۔اس کے علاوہ رو حال بھی ضرور رکھتے تھے اور جاڑوں میں جرا ہیں۔آپ کے سبب کپڑوں میں خصوصیت یہ تھی کہ وہ بہت کھلے ہوتے تھے۔اور اگر چہ شیخ صاحب مذکور کے آوردہ کوٹ انگریزی طرز کے ہوتے مگر وہ بھی بہت کشادہ اور لیے یعنی گھٹنوں سے نیچے ہوتے تھے۔اور جیتے اور چوغہ بھی جو آپ پہنتے تھے تو وہ بھی ایسے لیے کہ بعض تو ان میں سے ٹھنے تک پہنچتے تھے۔اسی طرح کرتے اور صدیاں بھی کشادہ ہوتی تھی۔بنیان آپ کبھی نہ پہنتے تھے بلکہ اس کی تنگی سے گھبراتے تھے۔گرم قمیض جو پہنتے تھے۔ان کا اکثر اوپر کا بٹن کھلا رکھتے تھے۔اسی طرح صدری اور کوٹ کا اور قمیض کے کنوں میں اگر ٹین ہوں تو وہ بھی ہمیشہ کھلے رہتے تھے آپ کا طرز عمل ما انا من المتکلفین کے ماتحت کسی مصنوعی جکڑ بندی میں جو شرعا غیر ضروری ہے پابند رہنا آپ کے مزاج کے خلاف تھا اور نہ آپ کو کبھی پر واہ تھی کہ لباس عمدہ ہے یا برگیش کیا ہوا ہے یا بین سب