مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 529
۵۲۸ دیا تھا۔البتہ کچھ روز انگریزی دسمہ صبی استعمال فرمایا۔مگر پھر ترک کر دیا۔آخری دنوں میں میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک وسمہ تیار کر کے پیش کیا تھا وہ لگاتے تھے۔اس سے ریش مبارک میں سیاسی آگئی تھی۔مگر اس کے علاوہ ہمیشہ برسوں مہندی پر ہی اکتفا کی جو اکثر جمعہ کے جمعہ یا لبعض اوقات اور دنوں میں بھی آپ نائی سے لگوایا کرتے تھے۔ریش مبارک کی طرح موچھوں کے بال بھی مضبوط اور اچھے موٹے اور چمکدار تھے۔آپ نہیں کرواتے تھے۔مگر نہ اتنی کہ جو وہا ہیوں کی طرح مونڈی ہوئی معلوم ہوں۔نہ اتنی ایسی کہ ہونٹ کے کنارے سے بچی ہوں۔جسم پر آپ کے بال صرف سامنے کی طرف تھے۔پشت پر نہ تھے اور بعض اوقات سینہ اور پیٹ کے بال آپ مونڈ دیا کرتے تھے۔پاکتروا دیتے تھے۔پنڈلیوں پر بہت کم بال تھے۔اور جو تھے وہ نرم اور چھوٹے۔اس طرح ہاتھوں کے بھی۔چہرہ مبارک آپ کا چہرہ کتابی یعنی معتدل لمبا تھا۔اور حالانکہ عمر شریف ۷۰۔اور ۸۰ کے درمیان تھی پھر بھی جھریوں کا نام ونشان نہ تھا اور نہ متفکر اور غصہ در طبیعت والوں کی طرح پیشانی پرشکن کے نشانات نمایاں تھے۔رنج۔فکر۔تم دو یا غم کے آثار چہرہ پر دیکھنے کی بجائے زیارت کنندہ اکثر تبسم اور خوشی کے آثار ہی دیکھتا تھا۔آپ کی آنکھوں کی سیاہی ، سیاہی مائل شربتی رنگ کی تھی۔اور آنکھیں بڑی بڑی تھیں مگر پوٹے اس وضع کے تھے کہ سوائے اس وقت کے جب آپ ان کو خاص طور پر کھولیں ہمیشہ قدرتی غض بصر کے رنگ میں رہتی تھیں۔بلکہ جب مخاطب ہو کر بھی کلام فرماتے تھے تو آنکھیں نیچی ہی رہتی تھیں اسی طرح جب مردانہ مجالس میں بھی تشریف لے جاتے تو بھی اکثر ہر وقت نظر نیچے ہی رہتی تھی۔گھر میں بھی بیٹھتے تو اکثر آپ کو یہ نہ معلوم ہوتا کہ