مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 525 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 525

۵۲۴ اور جس طرح آپ جمالی رنگ میں اس امت کے لئے مبعوث ہوئے تھے اسی طرح آپ کا جمال بھی خدا کی قدرت کا نمونہ تھا اور دیکھنے والے کے دل کو اپنی طرف کھینچتا تھا۔آپ کے چہرہ پر نورانیت کے ساتھ رعونت ہیبت اور استکبار نہ تھے۔بلکہ قرنتی، خاکساری اور محبت کی آمیریش موجود تھی چنانچہ ایک دفعہ کا واقعہ میں بیان کرتا ہوں کہ حضرت اقدس چولہ صاحب کو دیکھنے ڈیرہ یا با ناتک تشریف لے گئے تو وہاں پہنچ کہ ایک درخت کے نیچے سایہ میں کپڑا بچھا دیا گیا اور سب لوگ بیٹھ گئے۔اس پاس کے دیہات اور خاص قصبہ کے لوگوں نے حضرت صاحب کی آمدن کہ ملاقات اور مصافحہ کے لئے آنا شروع کیا۔اور جو شخص آتا مولوی سید محمد احسن صاحب کی طرف آتا اور ان کو حضرت اقدس سمجھ کر مصافحہ کر کے بیٹھ جاتا۔غرض کچھ دیر تک لوگوں پر یہ امر نہ کھلا۔جب تک خود مولوی صاحب مو صورت نے اشارہ سے اور یہ کہہ کر لوگوں کو ادھر متوجہ نہ کیا۔" حضرت صاحب یہ ہیں۔بعینہ ایسا واقعہ بحرت کے وقت بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں پیش آیا تھا۔وہاں بھی حضرت ابو بکر صدیق ر کو رسول خدا سمجھ کر مصافحہ کرتے رہے جب تک کہ انہوں نے آپ پر چادر سے سایہ کر کے لوگوں کو ان کی غلطی سے آگاہ نہ کر دیا۔جسم اور قد آپ کا جسم دبلا نہ تھا۔نہ آپ بہت موٹے تھے۔البتہ آپ دوسرے جسم کے تھے۔قد متوسط تھا۔اگر چہ تایا نہیں کیا مگر اندازاً پانچ فٹ آٹھ انچ کے قریب ہوگا۔کندھے اور چھاتی کشادہ اور آخر عمر تک سیدھے رہے نہ کر مجھکی نہ کندھے تمام جسم کے اعضاء میں تناسب تھا۔یہ نہیں کہ ہاتھ بے حد لیے ہوں یا ٹانگیں یا پیٹ اندانہ سے زیادہ نکلا ہوا قرض کسی قسم کی بد صورتی آپ کے جسم میں نہ تھی۔جلد آپ کی متوسط درجہ کی تھی نہ سخت نہ گھروری باور نہ ایسی علائم جیسی عورتوں کی ہوتی ہے۔آپ کا جسم پلیسلا اور نرم نہ تھا بلکہ مضبوط اور