مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 526
۵۲۵ جوانی کی سی سختی لئے ہوئے۔آخر عمر میں آپ کی کھال کہیں سے بھی نہیں سکی نہ آپ کے حسیم پر جھریاں پڑیں۔آپ کا رنگ زنگم چو گندم است و بمو فرق بین است زان سال که آمدست در اخبار سرورم آپ کا رنگ گندمی اور نہایت اعلیٰ درجہ کا گندمی تھا۔یعنی اس میں ایک نورانیت اور سُرخی جھلک مارتی تھی۔اور یہ چمک جو آپ کے چہرہ کے ساتھ وابستہ تھی عارضی نہ تھی بلکہ دائمی کبھی کسی صدمہ رنج انہلا مقدمات اور مصائب کے وقت آپ کا رنگ زرد ہوتے نہیں دیکھا گیا اور ہمیشہ چہرہ مبارک کندن کی طرح دیکتا رہتا تھا۔کسی مصیبت اور تکلیف نے اس جنگ کو دور نہیں کیا۔علاوہ اس چمک اور نور کے آپ کے چہرہ پر ایک بشاشت اور قسم ہمیشہ رہتا تھا اور دیکھنے والے کہتے تھے کہ اگر پیشخص مفتری ہے اور دل میں اپنے تئیں جھوٹا جانتا ہے تو اس کے چہرہ پہ یہ بشاشت اور خوشی اور فتح اور طمانیت قلب کے آثار کیونکر ہو سکتے ہیں۔یہ نیک ظاہر کسی بد باطن کے ساتھ وابستہ نہیں رہ سکتا۔اور ایمان کا نور ید کار کے چہرہ پر درخشندہ نہیں ہو سکتا۔آتھم کی پیش گوئی کا آخری دن آگیا اور جماعت میں لوگوں کے چہرے پژمردہ ہیں اور دل سخت منقبض ہیں۔بعض لوگ نا واقعی کے باعث مخالفین سے اس کی شرطیں لگا چکے ہیں۔ہر طرف سے اداسی کے آثار ظاہر ہیں۔لوگ نمازوں می و سیخ چین کہ رورہے ہیں کہ اے خداوند میں رسوا مت کہ یو۔عرض ایپ کر ام پی رہا ہے که مشیروں کے رنگ بھی فق ہو رہے ہیں۔مگر یہ خدا کا شیر گھر سے نکلتا ہے ہنستا ہوا اور جاعت کے مریم آوردوں کو مسجد میں بلاتا ہے مسکراتا ہوا۔ادھر حاضرین کے دل بیٹھے جاتے ہیں۔ادھر وہ کہہ رہا ہے کہ لو پیش گوئی پوری ہوگئی۔اطلع الله علی همه رقمه۔