مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 512
ااه حجۃ الوداع کا خطبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں یہ خطبہ پڑھا کہ زمانہ پھر اپنی اصلی حالت پر آگیا ہے (یعنی مشرک جو مینے آگے پیچھے کر لیتے تھے اور سال کا حساب غلط کر دیتے تھے۔وہ بات اب موقوف کی جاتی ہے) سال کے بارہ مہینے ہیں۔اور ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں۔جن میں جنگ وغیرہ کر نی حرام ہے۔ان چار مہینوں میں تین تونگا تار ہیں۔یعنی ذیقعدہ ذوالحجہ اور محرم اور جو تھا رجب ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔یہ کونسا مہینہ ہے۔ہم نے عرض کیا۔کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔آپ کچھ دیر خاموش ہو گئے جس سے ہم نے خیال کیا۔کہ اب اس کا نام بدل کر کوئی اور نام رکھیں گے پھر آپ نے فرمایا۔کیا اس شہر کا نام تک نہیں ہے۔ہم نے عرض کیا۔کہ بیشک یہی ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔کہ یہ کون سا دن ہے۔ہم نے عرض کیا۔کہ اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں۔آپ خاموش ہو گئے۔یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا۔کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گئے۔پھر آپ نے فرمایا۔کیا یہ قربانی والا حل نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا ہاں یا رسول الله تو آپؐ نے فرمایا کہ سن لو تمہارے خون اور مال اور عزت ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے کہ اس دن کی حرمت اس شہر اور اس مہینے میں اور دیکھو تم سب اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔اور وہ تم سے تمہارے عملوں کی باز پرس کرے گا۔کہیں ایسا نہ کرتا کہ ایک دوسرے کی گردن مار کر گمراہ ہو جاؤ سن لو جو لوگ یہاں موجود ہیں۔وہ اس بات کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔کیونکہ بعض دفعہ سننے والے کی نیست و شخص بات کو زیادہ سمجھتا ہے جسے بعد میں خبر پہنچے۔