مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 480
٤٤٩ اور محمد اُس کے بندے اور رسول ہیں۔یہ سن کہ قریش کے لوگ کہنے لگے کہ ذرا اس بے ایمان کی خبر لیا۔یہ کہہ کر وہ لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مجھے اتنا مارا کہ میری جان نکلنے کے قریب ہوگئی۔اتنے میں حضرت عباس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر جھک گئے۔اور لوگوں سے کہا۔کمبختو یہ تو تقبیلہ غفار کا آدمی معلوم ہوتا ہے۔اگر یہ مارا گیا تو یا درکھنا کہ وہ لوگ تمہاری وہ خیر لیں گے کہ تم بھی یاد کرو گے تم نہیں جانتے کہ تمہارے قافلوں اور تجارت کا راستہ انہی کے علاقہ میں سے ہے۔یہ سن کر وہ مارنے والے رک گئے اور ادھر اُدھر چلے گئے۔خیر میں نے مدرات گزاری۔اور جب صبح ہوئی تو میں پھر کعبہ میں گیا اور کل کی طرح پھر کلمہ پڑھا اور اپنا اسلام ظاہر کیا۔اس پر پھر وہ لوگ مجھے مارنے لگے۔حضرت عائش پھر دوڑے ہوئے آئے اور مجھے اُن سے بچایا۔اور وہی بات کہی جو کل کہی تھی۔عرض یہ حال میرے مسلمان ہونے والے دن کا ہے۔حقیقی پاکیزہ زندگی ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ آپ کی بی بیوں کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا حال دریافت کریں۔انہوں نے خیال کیا کہ شاید آپ گھر میں ہر وقت نماز میں ہی مصروف رہتے ہوں گے۔جب بی ہیوں نے آپ کے حالت سنائے اور انہیں آپ کی عبادت معمولی معلوم ہوئی تو وہ کہنے لگے۔کہ پھیلا ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نسبت آپ کے تو اگلے پہلے تصور سب خدا نے صاف کر دیئے ہیں۔ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو اب ساری رات نماز ہی پڑھا کروں گا دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزہ ہی رکھا کر وں گا۔کوئی دن ناغہ نہیں کروں گا۔تیسرے نے کہا میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ باتیں نہیں تو نہیں بلوا کر پوچھا۔کہ کا تم نے ایسا ایسا کہا ہے ؟ وہ بولے ہاں۔یارسول اللہ۔آپ نے فرمایا۔کہ خدا کی قسم میں تم سے زیادہ ڈرنے والا ہوں۔مگر پھر بھی میرا یہ حال ہے کہ روزہ رکھتا بھی ہوں۔اور چھوڑ بھی دیتا