مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 479 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 479

بولا۔رہیں ان کے پاس کھانا کھایا اور سورہا صحیح ہوئی تو میں پھر کھیر میں گیا۔اور ارادہ کیا کہ آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت کسی سے پوچھوں گا۔مگر کوئی شخص مجھے ایسانہ ملا جیں سے یہ سوال کرتا۔رات ہو گئی اور میں کہجہ میں ہی پڑ رہا۔اتفاقاً پھر حضرت علی نے میرے پاس سے گذرے اور کہنے لگے کہ تمہیں آج بھی کوئی جگہ ٹھہرنے کو نہیں ملی۔میں نے کہا نہیں۔حضرت علی نے کہا چلو میرے ساتھ۔راستہ میں انہوں نے پوچھا۔کہ تم باہر کے آدمی ہو، تمہارا یہاں کیا کام ہے۔جو آئے ہو ؟ میں نے کہا کہ اگر آپ میرا راز پیش نہ کریں تو بیان کرتا ہوں۔حضرت علی نے کہا ہاں میں کسی سے نہیں کہوں گا۔تم بیشک بیان کرو۔میں نے کہا کہ نہیں اپنے علاقہ میں یہ خبر ملی تھی۔کہ یہاں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔اس پر میں نے اپنے بھائی کو یہاں بھیجا۔مگر جو کچھ انہوں نے بیان کیا۔اس سے میری تسلی نہیں ہوئی۔اس لئے میں خود اس تحفہ سے ملنے آیا ہوں۔حضرت علی نے کہا۔اچھے لئے میں بھی وہیں جا رہا ہوں۔مین سے تم ملنا چاہتے ہو۔تم میرے ساتھ چلو۔اور جہاں میں جاؤں تم بھی داخل ہو جاتا۔اور اگر کوئی فسادی آدمی جس سے تم کو خطرہ کا اندیشہ ہوگا مجھے نظر آئے گا تو میں دیوار کے پاس ٹھہر جاؤں گا اور اپنی جوتی درست کرنے لگوں گا تو تم یہ اشارہ سمجھ لینا اور مجھ سے الگ ہو کہ سید سے چلے جانا۔میں نے کہا اچھا۔اس کے بعد حضرت علی نے مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔میں آپ سے ملا اور سوال کیا۔کہ مجھے اسلام کے احکام سنائیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سناٹے میں اسی وقت مسلمان ہو گیا۔اس کے بعد آپ نے فرمایا۔کہ اسے ابوزر ابھی اپنے اسلام کو کھلم کھلا ظاہر نہ کرتا۔بلکہ بہتر ہے کہ تم اپنے علاقہ کی طرف واپس چلے جاؤ اور جب تمہیں ہمارے غلبہ کی خبر پہنچے تو ہمارے پاس آجانا۔میں نے عرض کیا کہ مجھے اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔میں اب اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا ہیں تو ابھی پکار پکار کر لوگوں میں اس کو ظاہر کر دوں گا۔چنانچہ میں وہاں سے نکلا اور پکارتا ہوا کیہ کی طرف آیا اور کہا اے قریش میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معیون نہیں۔