مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 460
۴۵۹ شرم وحیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم و حیا کا یہ حال تھا کہ صحابیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ پر ونوشین کنواری تو جوان لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔کبھی آپ کی زبان سے کوئی فحش بات نہیں نکلی۔نہ عمر بھر کوئی بے شرمی کی بات آپ سے سرزد ہوئی۔خدائی دعوت۔وسیل مچھلی جائر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے کنارہ کی طرف ۳۰ آدمیوں کا ایک لشکر بھیجا اور سردار شکر ابو عبیدہ بن جراح کو مقر فرمایا۔میں بھی اسی لشکر میں تھا۔جب ہم دُور نکل گئے۔تو ہمارا زاد راہ ختم ہو گیا۔اس پر ابو عبیدہ نے سارے شکر میں جو کچھ کھانے کا تھا۔سب جمع کر لیا۔یہ سب مل ملا کہ دو تھیلوں کی کھجوریں نکلیں۔اس میں سے دہ نہیں حقہ ردی روزانہ تھوڑی تھوڑی کجھوریں تقسیم کر دیا کرتے تھے۔آخر وہ بھی ختم ہونے پر آگئیں۔پھر ہم کو صرف ایک ایک کھجور روزانہ ملے گی۔آخر کچھ بھی باقی نہ رہا۔اس وقت ہم کو اس ایک کھجور کی قدر معلوم ہوئی۔پھر ہم لوگوں نے سمندر کا رخ کیا۔وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ کنارہ پر ایک عظیم الشان مچھلی جیسے غیر روہیل مچھلی) کہتے ہیں پڑی ہے۔ہم سب لوگ اسی کو اٹھارہ دن تک کھاتے رہے اور اس کی چربی سے اپنے بدنوں پر مالش کرتے رہے۔یہاں تک کہ ہم خوب موٹے ہو گئے۔ایک دن ابو عبیدہ نے اس مچھلی کی دو پسلیاں زمین پر کھڑی کروائیں۔تو اونٹ سواران کے نیچے سے صاف نکل گیا۔پھر جب اپنے کام سے فارغ ہو کہ ہم لوگ مدینہ واپس آئے۔تو سب حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔آپ نے فرمایا۔کہ یہ تو اللہ کا بھیجا ہو رزق تھا جو تم کو ملا۔اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حقہ موجود ہو۔تو نہیں بھی کھلاؤ۔اس پر ایک شخص اُٹھا۔اس نے ایک ٹکڑا اس پھیلی کا لا کہ