مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 444
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر اور صحابہ کا ایثار ایک دفعہ ایک مہمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے اپنے سب گھروں میں آدمی بھیج کر کھانا منگوایا۔مگر کہیں کچھ نہ ملا۔اور سب بی ہیوں نے ہی کہلا بھیجا۔کہ پانی کے سوا ہمارے ہاں اور کچھ کھانے کو نہیں ہے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا۔کہ کوئی ہے جو اس مہمان کو آج اپنے ہاں نے جائے۔اور کھانا کھلائے، یہ سن کر انصار میں سے ایک صحابی اُٹھے۔اور انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہمیں ان کو اپنے ہاں لے جاؤں گا۔چنانچہ وہ ان کو گھر لے گئے۔اور اپنی بی بی سے کہا۔کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلیم کے مہمان ہیں۔ان کی اچھی طرح خاطر کرد۔بی بی نے میاں کو الگ لے جا کہ کہا۔کہ گھر میں تو سوائے اپنے بچوں کے کھانے کے اور کچھ نہیں ہے۔اس انصاری نے کہا۔کہ بی بی تم کھانا تیار کہ کے چراغ روشن کر دینا۔اور بچوں کو کسی طرح پہلا کر یہ دنیا۔پھر مہمان کو اجلہ مجھے کھاتے سلا کے لئے بلا لینا۔چنانچوان بی بی نے ایسا ہی کیا۔بچوں کو تو پہلا کر سلا دیا۔اور کھانا تیار کر کے چراغ جلا کہ مہمان کو ملایا۔کھانا اس کے سامنے رکھا۔اور دونوں میاں بیوی اس کے ساتھ کھائیے۔بیٹھ گئے۔اور جیسے کہ پہلے صلاح ہو چکی تھی۔وہ بیوی اُٹھیں اور چراغ کی بتی درست کرنے لگیں۔اور اس ترکیب سے چراغ بجھا دیا۔ان دونوں میں دیا سلائیاں نہ تھیں۔اس لیے پرانے مجھے جاتا۔تو اس کا پھر ملانا بڑا وقت لیتا تھا۔چنانچہ وہ لوگ اندھیرے میں ہی کھانے بیٹھ گئے۔وہ مہمان تو کھانا کھاتے رہے۔مگر یہ میاں بیوی دو توں صرف خالی منہ اسی طرح چلاتے رہے ہیں سے جہان پہ سمجھے کہ وہ بھی کھا رہے ہیں۔عرض مہمان نے تو پیٹ بھر کہ کھانا کھا لیا۔اور گھر والے اور ان کے بچے سب بھو کے سورہے۔جب صبح ہوئی تو وہ انصاری صبح آنحضرت صلی اللہ علیہ سلیم کی مسجد میں حاضر ہوئے۔آپ ان کو دیکھ کر ہنسے اور فرمایا کہ تم میاں بیوی کی رات والی بات سے اللہ تعالی کو بھی مہنسی آگئی۔اس کے بعد ان