مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 423
۴۲۲ اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک جوان آیا۔اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔پھر اپنے ہاتھ باندھ کوکیہ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔تھوڑی دیر میں ایک لڑکا آیا۔اور اس شخص کی دائیں جانب کھڑا ہو گیا۔پھر ایک عورت آئی اور اُن کے پیچھے کھڑی ہو گئی۔اتنے میں اس جوان نے رکوع کیا۔تو ساتھ ہی عورت اور لڑکے نے بھی رکوع کیا۔پھر وہ جوان رکوع سے اُٹھا تو لڑکا اور عورت بھی ساتھ ہی اُٹھے۔پھر جوان نے سجدہ کیا۔تو باقی دونوں نے بھی سیدہ کیا۔میں نے یہ نظارہ دیکھ کر کہا کہ عیاس ! یہ بڑے اچنبھے کی بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاں واقعی بڑی تعجب کی بات ہے۔یہ جوان میرا بھتیجا محمد عبد اللہ کا بیٹا ہے اور یہ لڑکا علی نے میرے بھائی ابو طالب کا بیٹا ہے۔اور یہ عورت محمد کی بی بی خدیجہ ہے۔میرا بھتیجا محمد کہتا ہے کہ اس کا خدا آسمان اور زمین کا پر درد گار ہے۔اور اسی نے محمدؐ کو اس دین کا حکم دیا ہے۔خدا تعالی کی قسم اس وقت ان تینوں کے سوا اور کوئی شخص اس دین میں داخل نہیں ہے۔ظالم چھاپہ ایک صحابی (ربیعہ نام) بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو لہب کو عکاظ کے میلے میں دیکھا۔کہ وہ رسول خدا کے پیچھے مجھے کہتا ہوا چلا جارہا تھا۔کہ اے لوگو شخص گمراہ ہو گیا ہے۔کہیں تمہیں بھی تمھارے باپ دادا کے مذہب سے گمراہ نہ کر دے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے آگے آگے تیز قدم چلے جاتے تھے۔وہ بھی آپ کے پیچھے لگا چلا جاتا تھا ہم سب لوگ جو عمر میں لڑکے ہی تھے۔ابو لہب کے ساتھ ہوتے تھے۔میری آنکھوں کے سامنے اب بھی وہ نظارہ ہے۔کہ ایک شخص پھر پھر کہ پیچھے دیکھتا جارہا تھا۔اس کے بال جھے تھے۔اور وہ سب سے زیادہ کورا اور خوبصورت تھا میں نے کسی سے پوچھا۔یہ کون ہے لوگوں نے کہا یہ محمدؐ ہے۔عبداللہ کا بیٹا۔پھر میں نے پوچھا۔کہ یہ شخص کون ہے جو ان کو پھر