مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 410
نحصر مسایلی نکا حلیہ مبارک قد میانہ قد سے ذرا نکلتا ہوا۔حجیم خوش اندام اور گٹھا ہوا جسامت میں معتدل۔رعب :- آپ کو دیکھ کہ عظمت اور ادب پیدا ہوتا تھا۔بدن نہایت جامہ زیب تھا۔مسرور بڑا اور خوبصورت بال سیدھے لیکن قدائل دار کان کی نوک تیک سرمی تیل ڈالا کرتے تھے۔مانگ درمیان میں رکھتے تھے اور زینت کر کے آئینہ دیکھا کرتے۔چہرہ اورچودھویں کے چاند کی طرح چمک دار سفید رنگ میں ہمیں سرخی دمکتی تھی۔کشاده رو - خوش خوب بسنجیده پیشانی به فراغ و بلند - ایر و خمدار - ہالوں سے پر پیوستہ نہ تھے۔دونوں کے درمیان ایک رگ تھی۔جو جلال کے وقت نمایاں ہو جاتی تھی۔ناک در اونچی اور قدر سے لہبی۔ریش مبارک و بھری ہوئی اور سیاہ فوت ہوتے وقت سرا در داڑھی میں ۱۷ سے زیادہ سفید بال نہ تھے۔رخسار سیک - دمن فراغ - دانت ، چمکدار بار یک جب تبسم فرمانے تو سمبلی کی طرح چمکتے نظر آتے تھے اُحد کی لڑائی ہیں، ایک دانت ٹوٹ گیا تھا۔آنکھیں سیاہ بڑی بڑی سرمہ گئیں۔ان میں ڈورے تھے۔پلکیں لمبی تھیں۔گردن بر تصویر کی گردن کی طرح۔صفائی میں چاندی کی مانند سینہ اور شکم پسینہ سے ناف تک بالوں کا ایک بار یک خط تھا۔سینہ اور شکم