مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 358
۳۵۷ تفصیلات میں کچھ غلطی رہ جائے تو حرج نہیں اس کا درست کر لینا آسان ہے مگر مقطعات کی اصلیت ہی معلوم نہ ہو۔جھٹ سن کے معنی سلام ہمیع، قدری ، واسخ یاط کا مطلب معطی مقسط - لطیف ، باسطہ یا ص کا مطلب لجبیر، مصور، صمد وغیرہ لینے لگ جائیں۔تو سوائے اس کے کہ سننے والا بے اختیار ہنس دے اور کچھ نتیجہ نہیں نکلتا۔پس لازم ہوا کہ پہلے ہم جڑ اور اصلیت مقطعات کی معلوم کریں۔اور یہی دہ بات تھی جس کی طرف توجہ نہ کرنے سے پہلے مفسر عمو گا فرضی اور اندازی معنی کرتے رہے اور اس سے آگے نہ بڑھ سکے۔مقطعات کی اصلیت۔یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کا رحم تھا۔کہ کچھ مدت گزری کہ ایک دن بجلی کی طرح بلا کسی وقتی خور و خوض کے یہ ایک بالکل نئی بات میرے دل میں پڑی کہ قرآنی مقطعات در اصل سونڈ کا نور کے ہی ٹکڑے ہیں اور ان کی یہی اصلیت ہے۔اس وقت مجھے کبھی یہ خیال آیا تھا اور نہ یہ بات کبھی اس سے پہلے پڑھی یاشتی تھی۔نہ اس کی کوئی دلیل میرے پاس تھی۔نہ کوئی قرینہ ذہن میں آیا تھا۔بالکل ایک دعوئے ہی دھولے تھا۔جس کا ثبوت میرے پاس کوئی نہ تھا۔مگر میں نے قرآن کریم کھول کر کچھ توجہ اور مطالعہ کیا تو معلوم ہوا، کہ یہ بات صحیح ہے اور مجھے بعض قرائن اور باتیں ایسی مل گئیں جن سے مجھے انشراح صدر ہو گیا کہ تمام مقطعات صرف فاتحہ کی آیات اور فاتحہ کے الفاظ کا اختصار ہیں۔اور جیسی حسیں سورۃ پیر کوئی مقطعہ موجود ہے۔وہ سورۃ الحمد کی اس آیت یا لفظ کی تفسیر ہے جس کا اختصاراً وہ مقطعہ ہے۔شکر تمام مقطعات کی تفصیل میں جانے کے بغیر اس وقت صرف آپ کے سمجھنے کے لئے میں اس ہی کو لیتا ہوں جو سورہ بقرہ کے مرید ہے۔تفصیلی ذکر آگے چل کہ انشاء اللہ کروں گا یہ اسم الف اور لی اور ھر کا مجموعہ ہے۔الف