مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 357 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 357

۳۵۶ اصل اور جڑ کو پکڑنا چاہیئے دوسری بات یہ ہے کہ یونہی تیرہ مقامات میں سے کسی ایک کے معنے کر لینے اور یا قبوں کے متعلق سکوت اختیار کرنا مثلاً القہ کے معنی انا اللہ اعلم کہ کہ باقی پر سکوت اختیار کر لیا ٹھیک اصول نہیں۔اگر انکشاف حقیقت ہوا ہے تو سب مقطعات پہ یا اکثر یہ تو حاوی ہونا چاہیئے۔مثلاً السم کے معنے ہم نے کسی سے پوچھے۔اس نے قوراً جواب دیا کہ الف اللہ کال جبریل کا اور مر محمد کا ہے۔لیکن اسی اصول کے ماتحت اگر پوچھا جائے کہ عسق سے کس کس کا نام مراد کیا جاوے گا تو بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔پھر ایک دوسرے شخص سے پوچھا کہ السنہ کے معنی کیا ہیں ؟ کہنے لگے آنا الله اعلم پوچھا کیا ثبوت ؟ کہا حضرت ابن عباس و یا حضرت مجاہد نے یہ تفسیر کی ہے۔پھر پوچھو کہ باقی بارہ مقطعات کی تفسیر ابن عباس یا مجاہد کی بیان کہ وہ لاؤ تو خاموشی۔پھر کہو کہ اگر وہ بارہ مقطعات کی تفسیر نہیں کر گئے۔تو کم از کم کوئی اصول ہی بتا گئے ہوں گے یا اس آنا الله آغکم سے تم خود ہی کوئی اصول باقی قفل کھولنے کے لئے وضع کرو تو خاموش ہو جاتے ہیں۔یا یہ کہ دیتے ہیں کہ جی خدا کا کلام ہے۔اس پر جیتنے حروف آئے میں وہ سب خدا کے نام ہیں۔مثلا حق سے مراد صادق وغیرہ طہ سے مراد لطیف وغیرہ۔غرض اسماء الہلی میں کہیں بھی کوئی دیسا حرف مل جائے۔میں جھوٹ اس لفظ کو پکڑ کہ آگے رکھ لیا کرو اور وہی ان حروف مقطعات کے معنی ہیں۔سو ایسا طریقہ تو اندھیر نگری ہے۔علمی اور تسکین قلب کرنے والا طریقہ نہیں ہے پس میں ان مقطعات کے حل کے لئے ایک اصل ڈھونڈنا چاہیے کہ اصولاً یہ مقطعات ہیں کیا چیز ہے نہ یہ کہ جن حروف مقطعات کو چاہا آگے رکھ کہ جو چاہے معنی کہ دیئے ، اور اب تک تو پرانے لوگ شاید ہی کہتے رہے ہیں۔اصولاً پہلے یہ نہیں معلوم کیا گیا۔کہ مقطعات ہیں کیا ؟ پھر اگر