مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 344 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 344

۳۴۳ اب بنی اسرائیل کی سلطنت میں گھن لگ گیا ہے اور زوال کے دن قریب ہیں۔میری قوم دنیا داری اور عیاشی میں پڑ گئی ہے۔اب ان سے سلطنت کی وسعت ہوئی مشکل ہے۔اس لئے یہ دعا کی کہ اسے خدا میں تو مر ہی جاؤں گا اور آئندہ سلطنت بڑھانے والا کوئی نظر نہیں آتا اتنی سی سلطنت تو چند دنوں میں ہی ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتی ہے۔اگر لائق انسانوں کا پیدا ہونا امر مقدر نہیں ہے۔تو تو اپنے فضل سے کم از کم یہی کہ کہ میری سلطنت کو سی اتنا وسیع کر دے کہ اسے ٹوٹنے اور برباد ہونے میں ایک لمبا عرصہ صرف ہو اور بنی اسرائیل بجائے سو دو سو سال کے ہزار سال تو دنیا میں بعزت رہ سکیں یہیں خود مجھے ہی نئی فتوحات اور علاقے تسخیر کرنے کی توفیق دے۔اگر میرے بعد نالائق بھی ہوں گے تو بھی ایک زیادہ بڑی سلطنت ٹوٹنے میں بہت دیر گئے گی بجائے اس موجودہ سلطنت کے جو جلد فنا ہونے کی اہمیت رکھتی ہے۔اس پہ خدا تعالیٰ نے ان کو وہ پہاڑی علاقے جن میں جن رہتے تھے عطا کر دیئے تاکہ سلطنت کے حدود اور فرنٹیر مضبوط ہو سکیں۔اور بیرونی حملہ اور اس کو آسانی سے نہ توڑ سکے۔اور سلطنت کا قیام دیر تک رہ سکے۔نیز فرمایا کہ ہم نے جہاز اور تجارتیں کرنا سلیمان کو سکھا دیا تاکہ دولت جمع کر سکے اور سرحد کے پہاڑی علاقے جہاں جنات و شیاطین رہتے تھے (استعارہ) ان کے ہاتھ پر فتح کرا دیئے یا تابع کر دیے تاکہ اس کی سلطنت زیادہ پائدار رہ سکے۔کیونکہ آئندہ بادشاہ اگر نالائق بھی ہوں تب بھی ایک زیادہ وسیع اور زیادہ مضبوط سلطنت دیر میں برباد ہوتی ہے۔یہ نسبت ایک چھوٹی اور غیر محفوظ اور مفلس سلطنت کے۔پس جب سلیمان نے دیکھا کہ میرے جانشین نالائق ہیں۔یہ بنی اسرائیل کی عظمت چند دن میں اُڑا کر رکھ دیں گے تو وسعت سلطنت کی دُعا کی کہ نالائقوں کو اس سلطنت کے اڑانے میں بھی دیر لگے۔اور یہود کا اقتدار تایدیہ قائم رہے جیسے ایک لائق باپ جب اپنی اولاد کو نالائق دیکھتا ہے تو کمائی اور روپیہ جمع کر کے چھوڑ جاتا ہے کہ یہ تو کمانے سے رہے میں ہی ان کے لئے کافی سرمایہ جمع کر جاؤں۔