مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 345 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 345

۳۴۴ اکبر رنک کی فتوحات ہندوستان میں کئی پشت تک چلیں اگر وہ اس وسعت فتوحات کا انتظام نہ کرتا تو شاید شہنشاہ جہانگیر کے سامنے ہی اس کی سلطنت کا خاتمہ ہو جاتا۔یادر ہے کہ یہ آیت صرف بنی اسرائیل کے لئے ہے۔وہ سلطنت ایک معمولی سلطنت تھی۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ سلیمان علیہ السلام کے بعد آج تک دنیا میں کسی اور کو ولین عظیم الشان سلطنت نہیں ملی۔مطلب صرف یہ ہے کہ قوم یہود کو اس شان کی سلطنت نہیں ملی۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے سے لوگوں کو یہ ضرورت پیش آئی کہ جب انہوں نے دوسری عظیم الشان اور سلیمان کی سلطنت سے بہت زیادہ بڑی بڑی سلطنین تاریخی طور پر دیکھیں تو ان کو فرضی تو جہیں کرنی پڑیں کہ ہوا ان کی مطیع تھی اور کوہ قاف کے دیو پری جنات ان کے تابع تھے اور ان کو اسم اعظم معلوم تھا۔یہ صرف اس لئے کہ سلیمان کی سلطنت کو کسی نہ کسی رنگ میں دنیا کی سب سے بڑی سلطنت ثابت کر سکیں۔حالانکہ یہ دعا اور اس کا اثر صرف بنی اسرائیل تک محدود تھا۔یعنی سلسلہ موسویہ میں اُن جیساز یہ دست بادشاہ کوئی نہیں ہوا۔اور پیں۔اگر یہ مفسرین اس آیت اور اس دعا کو بنی اسرائیل کی سلطنت تک محدود رکھتے تو نہ کوہ قاف پر سلیمانی سلطنت کو وسیع کرنا پڑتا نہ معین وانس اور ہوا پانی پر ان کا تسلط تسلیم کرنا پڑتا۔اور بہت ساری غلط بیانیوں اور فرضی قصہ کہانیوں کے گھڑنے سے بچ جاتے۔اس تمام بیان سے ثابت ہوا کہ - یہ دعا صرف سلسلہ بنی اسرائیل اور یہودی سلطنت کے لئے ہے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو چونکہ آئندہ اعلیٰ کارکن یہودیوں میں نظر نہ آتے تھے۔اس لئے انہوں نے مناسب سمجھا کہ ان کی سلطنت کی حدود ہی مضبوط اور وسیع ہو جائیں تاکہ وہ دیر تک محفوظ رہ سکے۔۔تیسرے یہ دعا جیسا کہ میں شروع میں بیان کر چکا ہوں انسانی فطرت کا ایک مظاہرہ ہے۔ہرنی بلکہ ہر انسان عظمت اور بڑائی کا خواہشمند ہے اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق سر