مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 336
۳۳۵ مجھے حل ہوگئی ہیں۔گویا خدا تعالٰی بعضی اوقات اور لوگوں کے عمل یا کلام سے کلام الہی کی مشکلات کا حل کروا دیتا ہے۔ان کی باتیں تو اپنے مطلب کی ہوتی ہیں اور سمجھنے والے کو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بات میری اس مشکل کے حل کروانے کے لئے اور مجھے سمجھانے کے لئے بمقتضائے اہلی واقع ہوئی ہے۔اس شادی کے معاملہ میں زید صاحب نے رخصتانہ جلدی کرنے پر بہت زور دیا تھا۔مگر لڑکی والے لمبی مہلت چاہتے تھے۔آخر لڑکی والوں نے ان کی عجلت دیکھ کر ان کو رعایت دینی شروع کی۔یہاں تک کہ آخر انہوں نے کہ دیا کہ اس مجلس مشاورت کے موقعہ پر ہم خانہ کر دیں گے۔اس سے کم مہلت دینی ہمارے لئے نا ممکن ہے۔کیونکہ جو تیاری ہمارے ذمہ ہے دہ اپریل سے پہلے ہر گز پوری نہیں ہو سکتی۔اس پر فریقین کا اتفاق اور معاہدہ ہو گیا۔مگر زید جو خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَمَلِ میں نمایاں طور پر ممتاز تھے دوماہ پہلے ہی با وجود معاہدہ پر اور سب حالات کے جاننے کے غل مچانے لگے۔اور یہ کوشش شروع کی کہ اپریل کی جگہ فروری میں ہی دلہن ہمارے گھر میں آجائے۔ان کے اس پر جوش رویہ کو دیکھ کر اس آیت کے معنی مجھے پر یوں کھل گئے کہ اللہ تعالیٰ بھی تو فرماتا ہے کہ خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ۔اے انسانو! تمہاری نظرت میں میں نے واقعی تعمیل اور جلد بازی کا مادہ سکھا ہے۔اس لئے میں تم سے اس فطرت اور جبلت کے بر خلاف جلد بازی نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اساور يكُم امتی) میں بھی تمہاری فطرت اور طبیعت کی اس جلد بازی اور تجھیل کے مطابق جو میں نے تمہاری جبلت میں خود رکھی ہے جلدی ہی تم کو اپنے نشانات دکھاؤں گا۔اور تمہاری تعجیلی فطرت کی خاصیت کو کھلوں گا نہیں۔بلکہ تعمیل فطرت انسانی کے مطابق میں بھی منقریب ہی ر یہ س کا ترجمہ ہے) ستجھ کو نشان دکھاؤں گا اور نا مناسب دیر نہیں کروں گا مگر (فلا تَسْتَعْجِلُونِ) تم بھی مہربانی کر کے میرے بندے زید کی طرح بے جا اور نا مناسب جلدی تہ کہ تا۔اب آیت کا ترجمہ و مطلب صاف ہو گیا یعنی یہ کہ انسان کی فطرت میں محبت ہے بس