مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 334 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 334

۳۳۳ ایک آیت کی مشکلات کا حل قرآن مجید میں ایک آیت آتی ہے۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَاوِرِيكُمْ أَيْتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ (انبیا : ۳۸) جس کا ترجمہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی رکھی گئی ہے۔ہمیں ضقریب تم کو اپنے نشانات دکھاؤں گا۔پس اے انسانو! تم جلدی مت کرو۔یہ آیت مجھے مدتوں دل میں کشکتی رہی اور تعجب اس بات پر تھا کہ اللہ تعالیٰ خود ہی تو فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کی فطرت میں جلد بازی رکھی ہے۔پھر خود ہی نصیحت فرماتا ہے کہ میں تم کو اپنے نشانات دکھاؤں گا یگر دیکھنا جلد بازی نہ کرتا۔پہلے خود ایک خاصیت انسان کی طبیعت اور فطرت میں رکھ دی پہ صحیت کر دی کہ دیکھنا اس فطرت کا اظہار نہ کرنا یہ تو وہی بات ہوئی کہ ہے در میان قعر در یا تخته بندم که دیام بازمی گوئی که دامن ترنکن بهشیار باش پس انسان کو تعمیل پر مجبور کر کے اس کے بر خلاف اس سے مطالبہ کرتا یہ کیونکہ درست ہو سکتا ہے۔بہت سوچا نگہ کوئی حل اس کا سمجھ میں نہ آیا۔کچھ مدت گذری کہ ایک دوست نے جمعہ کے دن مسجد اقصٰی میں خطبہ سے پہلے مجھ سے کچھ باتیں کیں۔ان کی باتوں سے یکدم میرے ذہن میں اس اعتراض کا جواب آگیا۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔کہ ان کی وجیہ سے میرا مات کا پھنسا ہوا مسئلہ حل ہو گیا اور وہ اس طرح۔فرض کرو اس دوست کا نام زید تھا۔تو معاملہ یہ تھا کہ زید کے لڑکے کی ایک جگہ