مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 330
۳۲۹ £ ہے۔ہر گرہ ہر گنہ نہیں۔واضح ہو کہ ہمو جب اسلامی عقائد کے ابتیا د ملکہ صدیقیوں کو بھی میں شیطان نہیں ہوتا۔جیسے کہ احادیث میں آیا ہے کہ عیسی اور اس کی ماں میں شیطان سے پاک تھیں یعنی عیسی بیب بنی ہونے کے اور مریم بسبب صدیقہ ہونے کے تیس شیطان سے محفوظ تھے۔اور پھر ایوب کیوں نہ ہوتے۔دوسرے یہ کہ نصب اور عذاب کا واقع ہونا تو خدا کے دشمن لیکھرام جیسوں کے لئے مناسب تھا۔جیسا کہ الہام عجل جسد له خوار له نصب و عذاب۔حضرت مسیح موعود کی وحی اس کے بارے میں ہے۔اب اگر ایک بینی انہی الفاظ کو اپنے اوپر چسپاں کرنے گئے تو اللہ میاں کو بڑا لگے یاز لگے۔چنانچہ حضرت ایوب نے فوراً اس غلطی سے تو یہ کی اور خدا نے بھی اُن کی تعریف فرمائی کہ وہ اداب یعنی فوراً رجوع کرنے والا تھا اپنی غلطی سے اب اس رجوع کا ثبوت بھی قرآن مجید سے ہی پیش کرتا ہوں۔چنانچہ اس توبہ کے بعد پھر بھی حضرت ایویں برابر اپنی بیماری کے لئے دُعا کرتے رہے۔مگر وہ دعا یہ بھی۔اني منى الفر وَانتَ اَرْحَمُ الرَّحِمِينَ (انبیاء (۸۲) یعنی مجھے بیماری کی تکلیف ہے پس اے اَرْحَمُ الرجین اس تکلیف کو تو مجھ سے دور کر دے۔یعنی انہوں نے اپنی دُعا کے الفاظ بالکل تبدیل کر دیئے۔پس اصل واقعہ تو یہاں تک ختم ہے مگر اس ضمن میں ایک دور باتیں بیان کرتی ضروری ہیں۔اولی تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنی تمام صفات قرآن مجید میں بیان کی ہیں۔اور اکثر کی عملی تفصیل بھی دی ہے۔اسی طرح صفت شفاء کا ذکر اس جگہ اور بعض اور جگہ کیا ہے۔یعنی خدا کے دوستوں اور پیاروں کو اس کی طرف سے ننھے اور دوائیں اور ترکیبیں بیماری دفع کرنے کی بھی بتائی جاتی ہیں۔جس طرح کہ یہاں چار تجویزیں بنائی گئیں۔اسی طرح شہد کو بھی شفا کہا گیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک بیماری میں آپ کو