مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 325 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 325

۳۲۴ اور پیر اور ٹانگیں گل سڑ نہیں گئی تھیں۔بلکہ وہ تیز قدم روزانہ سیر کرنے کے قابل تھے کیونکہ ایسی سیر بہت فرحت اور شگفتگی پیدا کرتی ہے۔اور پسینہ آکر روی مواد جسم سے خارج ہو۔جاتے ہیں۔دوسرے منے اُرگ بر خاک کے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ حکم خداوندی ہے کہ فلاں جگہ جا کہ ٹھو کہ مارو۔یا ایڈی مارو۔تو وہاں سے ایک چشمہ پھوٹے گا۔تم وہی پانی پینا اور اسی سے غسل کرتا۔ہمیں ان معنوں پر بھی کوئی اعتراض نہیں۔کیونکہ موسیٰ علیہ اسلام نے بھی عصا ما کہ پہاڑ میں سے ایک چشمہ نکالا تھا۔اور سرسبز پہاڑی ملکوں میں یہ کوئی اچنے کی بات نہیں۔البتہ ایسی جگہ کا تعین کر دینا خدا کے فضل اور وحی الہی کے غیب سے ہوا تھا۔اب آپ کی مرضی ہے۔خواہ پہلے منے پیدل سیرو ورزش کے لیں۔خواہ ٹھو کہ مار کو چشمہ نکالنے کے میں نہیں کوئی انکار نہیں۔دوسری صورت میں وہ چشمہ اسی طرح ان کی ٹھوکر سے پھوٹ کر نکل جس طرح موسی یا اسمعیل نے نکالا تھا اور پہلی صورت میں خدا تعالیٰ نے ان کو ایک چشمہ کا پتہ دیا کہ فلاں جگہ واقع ہے اس کا پانی پیو اور اسی کے پانی سے نہاؤ اور روز وہاں پیدل ڈیل مارچ کرتے جایا کرو۔اور آیا کرو۔یہ شہر اعلاج ہے هذَا مُعْتَسَل بَارِد وَشَرَابٌ علاج نمبر ۲ و ۳ یہ چشمہ تمہاری بیماری کے لئے شفا ہے۔اس میں نہاؤ اور اس کو پیو۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ چشمہ گندھنگ وغیرہ اجزاء سے مرکب تھا۔جو جلدی بیماریوں اور خارش وغیرہ کے لئے اکسیر ہے۔اب بھی دنیا کے تمام ملکوں میں جلدی امراض کے لوگ ایسے چشموں پر جاتے اور وہیں بہاتے اور اپنی کا پانی پی کہ شفا پاتے ہیں۔پس ایک علاج سیر پیدل دوسرا علاج غسل اس چشمہ کے پانی سے اور تیسرا علاج اس پانی کو پینا تھا۔آگے چل کہ چوتھا علاج فرمایا یعنی وَخُذُ بِيَدِكَ ضِعُنا