مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 319
٣١٨ اور اس کو اس کے اہل و عیال) بھی دیئے اور اُن کے سوا اپنی طرف سے رحم کرتے ہوئے اور بھی دیئے اور ہم نے اس واقعہ کو عبادت گزاروں کے لیے ایک نصیحت کا موجب بنایا ہے۔میں کل یہ ذکرہ آنجناب کے قصہ کا قرآن مجید میں آیا ہے۔اس میں سے سعودۃ بنیاد کی آیات تو بالکل سادہ اور بغیر کسی جھگڑے والی بات کے ہیں لیکن سورۃ حق کی ان آیات کے متعلق اس قدر شکلات مفسرین نے ڈال دی ہیں کہ خدا کی پناہ۔یہاں تک کہ معاملہ ابتیار کی تو ہین اور اللہ تعالیٰ کی پاک صفات پر حملہ کی نوبت تک پہنچ گیا ہے۔اس قصہ کو ایسا پیچیدہ کر دیا ہے کہ انسانی عقل کو ان آیات کے الفاظ سے دھکا دیتے ہیں جو نہایت سادہ اور قابل قبول واقعات پرمشتمل ہے رنگ آمیزی کی گئی ہے کہ مفرحات کی حد تک پہنچ گئی ہے۔تعوذ باللہ اور کسی وجہ سے ؟ صرف عجوبہ پسندی کی وجہ سے جو کہ تمام مفسرین نے اسرائیلی انبیاء کے لئے ضروری بھی ہے۔اگر ان آیات میں نشان شدہ آیات کے معنی لغت اور علم اور منقل کے مطابق کئے جاتے تو یہ نوبت نہ پہنچتی صیح معنے سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مختصر طور پر شہور معنی پرانے مفسرین کے بیان کئے جاویں۔اور اس کے بعد ان آیات کی حقیقت کو واضح کیا جاوے۔تاکہ سادہ اور صاف معنی لوگوں کی سمجھ میں آجائیں۔سو وہ مشہور قصر یوں بیان کیا جاتا ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر تھے۔اُن پر ایک دفعہ ہماری آئی اور ایسی سخت آئی کہ تمام جسم پر زخم ہو کہ کیڑے پڑ گئے۔حتی کہ شہر والوں نے ان کو شہر سے باہر نکال دیا۔اٹھارہ سال وہ خدام میں مبتلا ر ہے۔ان کی انگلیاں دوغیرہ سب جھڑ گئیں۔اور سب دوستوں رشتہ داروں اور رفیقوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔صرف ایک بیوی رہ گئی۔جو شہر سے اُن کے لئے کھانا لاتی تھی۔ایک دن اس عقیقہ کو جو ایک دو گھنٹہ کھانا لانے میں دیرہ ہو گئی۔تو حضرت ایوب کو اس کی عفت پر شبہ ہو گیا اور