مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 320
۳۱۹ ناراض ہو کر کہنے لگے کہ میں اچھا ہو گیا۔تو خدا کی قسم تجھے سو ٹکٹڑیاں ماروں گا۔(جو نعوذ باللہ زانی اور زانیہ کی سترا ہے خیر اٹھارہ سال بعد خدا نے فرمایا کہ فلاں جگہ لات مار۔انہوں نے ماری۔ایک چشمہ وہاں سے پھوٹ نکلا۔آپ نے اس کا پانی پیا اور نہائے تو فوراً اچھے ہو گئے۔اچھے ہو کر قسم کے متعلق خدا سے پوچھا۔خدا نے کہا۔کہ یہ عورت بے گناہ تو ہے۔مگر چونکہ تو نے قسم کھائی تھی اس لئے سو تمہاں جمع کمر کے جھاڑو کی طرح بنا کہ اس بے گناہ ی کمر یہ مارہ تاکہ تیری قسم پوری ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔اس کے بعد الله تعالٰی نے ان کی مری ہوئی اولاد کو پھر زندہ کیا۔اور مزید اولاد بھی دیا یہ قصہ میں نے ایک قرآن کے حاشیہ پر سے لیا ہے۔یہ ہے گی جو ہمارے اہل قلم مفسرین نے انبیاء علیہم السلام اور ان کی پاک منش پیلیوں کی بنائی ہے اور جس پر اُن کو فخر بھی ہے۔اور یہ ہے ان کے نزدیک ایک بنی جو تھوڑی سی دیر ہو جانے پر اپنی بیوی پر فوراً بدکاری کی تہمت رکھتا ہے اور بے دیکھے محض ظن پر قسم کھاتا ہے۔کہ ضرور تجھے سو لکڑیاں ماروں گا ر یعنی تانیہ کو سزا دوں گا ذرا مجھے اچھا ہو لینے دے۔اور یہ ہے خدا ان کا جو سجائے اس پاک دامن کو عفت آپ کہتے کے اور اپنے پیغمبر کو بدظنی سے روکنے کے خود ایک بیگناہ کو سونگھیاں مارنے کی ہدایت کرتا ہے۔اور سزا کو کم کرنے کے لئے یہ عجیب حیلہ سکھاتا ہے کہ ان سب لکٹریوں کو ایک جھاڑد کی شکل میں باندھ لے۔تاکہ ایک بے گناہ قربانی محیم بیوی کو تھوڑی چھوٹ گئے۔انا للہ نے وانا اليه راجعون اس مختصر سان کے بعد اب میں ان آیات کا صاف اور دل لگتا مطلب بیان کرتا ہوں۔اور اگر آپ کو پسند آئے تو خاکسار کے لئے دعا فرمائیں۔ورنہ پھر اپنے لئے کوئی اور مطلب تلاش کریں۔جو اللہ تعالیٰ کی بے عیب ذات اور اس کے رسولوں کے تقدس اور عقل اور سنت الہی کے مخالف نہ ہو۔