مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 310 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 310

٣٠٩ اور تربیت وغیرہ داخل ہیں۔عورتیں اپنے گھروں میں ہی سیکھ سکتی ہیں۔اور اپنے ہی مردوں سے ان کتابوں پر عبور کر سکتی ہیں۔ایم اے یا بی اے پاس عورت کا دماغ ایک مرد کا دماغ ہو جاتا ہے اس میں سے نسائیت کا جوہر نکل جاتا ہے۔اور اس سے کسی مرد کی شادی ایسی ہے جیسے کسی مرد کی دوسرے مرد کے ساتھ شادی ہو لیکن خوشیاں مناتے ہیں کہ خوب جوڑا ملا۔دونوں ایک سے علم کے میاں بیوی مل گئے۔حالانکہ ایک ماہ بعد ایسی بیوی ہلائے جان ثابت ہوتی ہے۔جس طرح دو مردوں کا میاں بیوی ہونا خلاف فطرق ہے۔ایسے ہی ایسی عورت کا بیوی بنا جو پوری مردانہ تعلیم پائی ہوئی ہو نا ممکن ہے کیونکہ چند روز کے بعدی یہ علم والی عورت خاوند سے اسی طرح بیزار ہو جاتی ہے جیسے آج کل امریکہ اور یورپ میں ہورہا ہے۔جہاں اب تعلیم یافتہ عورت عورت نہیں بلکہ مرد ہے اور سبب مرد ہوتے کے وہ نہ عورت کے فرائض بچا لاسکتی ہے۔نہ مرد کے لئے باعث راحت اور رحمت اور مودت ہو سکتی ہے چنانچہ دیکھ لو کہ کئی ایسی تعلیم یافتہ عور میں ایک ایک سال میں نہیں نہیں طلاقیں حاصل کرتی ہیں۔وجہ یہ ہے کہ وہ لبیب مرد بن جانے کے پھر کسی مرد کے گھر میں ہیں نہیں سکتیں۔عورت کا کمال یہ ہے کہ وہ عورت ہی رہے اور اپنے ہی دائرہ میں ترقی کرے۔یا اگر مردانه علوم میں کامل ہو جائے تو پھر شادی اور خانہ آبادی نہ کرے کیونکہ یہ حالت عورت کا کمال نہیں ہے بلکہ منزل ہے۔انشاء اللہ عورتوں کی تعلیم کے مضمون پر میں آئندہ کسی وقت مفصل اپنے خیالات کا اظہار کروں گا اور موجودہ طرز جو عورتوں کی تعلیم کی لوگ اختیار کر تے جاتے ہیں ان کے خطرات اور بد نتائج اور یورپ کی کورانہ تقلید کے نقصانات پر تفصیل سے بحث کروں گا۔کیونکہ یہ بڑا لمبا اور مجیدہ مسئلہ ہے۔وبالله التوفيق سوال : لنڈن کے بازار میں ایک چادر با برقعہ پوش عورت گذر رہی ہو جہاں موٹروں کی کثرت کی وجہ سے ہر ۲۰ یا ۳۰ سیکنڈ پر پولیس کانسٹیبل کبھی ایک طرف کے لوگوں کو گزارتا ہے کبھی دوسری طرف کے ایسے موقعہ پر اس کے منہ پر گھونگٹ ہو یا الجھنے والا