مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 297
۲۹۶ خُمری پرده دوسرا پردہ جو عمری ہے اور جس کی آیت کو اکثر زیر بحث لایا جاتا ہے۔وہ صرف گھروں کے اندر کا پردہ ہے۔باہر کا نہیں ہے۔اور اس کی وجوہات میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ سوائے شاذ و نادر کے تمام دنیا کی معاشرت اس طرح کی ہو چکی ہے کہ خواہ شہر موں یا گاؤں ایک دوسرے کے گھر میں لوگوں کی نظر پڑتی ہے۔مثلا ایک متوسط الحال شخص ہے اس کے پانچ چھ بیٹے ہیں۔وہ ان سب کی شادی کر کے جب بہوؤں کو گھر میں لائے گا تو کیا ہر ایک کے لئے شہر سے باہر نیا مکان چار چار پانچ پانچ ہزار روپیہ خرچ کر کے بنائے گا۔ہرگز نہیں بلکہ سب اس کے گھر میں رہیں گے۔حالانکہ سب بھائی اپنی بھادیوں کے نا محرم ہوں گے۔پس ضرور ہوا کہ شریعیت ایک پردہ ان حالات کے ماتحت ایسی عور توں کے لئے قائم کرتی اور ان کی حفاظت کرتی۔سوالیسا پر وہ شریعت نے قائم کر دیا اور اس کا نام خمری پر دہ ہے۔اس میں صرف ایک بات ضروری ہے وہ یہ کہ عورت اور ھنی یا دو پٹر یا مناسب مشال سر پہ اس قسم کی اوڑھ لے جس سے بال ڈھک جائیں۔اور ایک حصہ اس کے سینہ کے بھی آگے آجائے۔یہیں یہ کم از کم ہے۔منہ کھلا ر ہے۔ہاتھ کھلے رہیں۔اور کام کاج کے ضروری اعضاء کھول سکتی ہے۔ہاں زینت یعنی زیورات وغیرہ چھائے۔مثلا اگر ماتھے پہ زیور ہے تو ذرا دو پیٹڈ نیچے کو کھسکا لے۔یا کانوں میں زیور ہیں تو اسی بکل میں کان پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔لیکن اگر عورت کا چہرہ نہایت ہی خوبصورت اور فتنہ میں ڈالنے والا ہو تو وہ اُسی خمر کا گھونگٹ نکالے رکھے۔اور یہ باتیں کوئی نئی نہیں ہیں۔ہندوستان پنجاب کے سب شہروں میں شرفاء میں بلکہ ادنی لوگوں تک میں رائج ہیں۔بلکہ اس سے زیادہ سختی سے رائج ہیں جتنے کی شریعت نے اجازت دی ہے۔در حقیقت خمری پردہ عزیز رشتہ داروں اور ہمیشہ گھر میں آنے جانے والے نیم محرموں کا پردہ ہے۔