مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 290
' ۲۸۹ الاماظهر منها شریعیت نے اجازت دی ہے کہ وہ زینت جس کا چھپانا اختیار سے باہر ہو۔اسے بیشک ظاہر کر دے۔اس کا ذکر اوپر آچکا ہے۔مگر یہ بھی مختلف طبقوں میں مختلف معنی رکھتا ہے۔مثلاً ایک امیر عورت اپنی کئی ایسی زہنیتوں کو چھپا سکتی ہے جن کو ایک مزد در عورت ظاہر کرنے پر مجبور ہے ورنہ روٹی کسی طرح کما سکے۔سو اس استثناء کے تحت مزدور، غریب اور مفتی عورتیں جو اپنے ہاتھ سے کام کرتی ہیں اپنے جسم کے بعض حصے کھلے رکھ سکتی ہیں۔اور یہی حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا کا فتوی ہے۔ایسی عورتوں کو بپاس شرم و حیا اپنے کچھ اعتضاد کھولنے ضروری ہیں جو مختلف حالات میں مختلف ہوتے ہیں۔مثلاً اپنے کھیت میں کام کرنے کے وقت بعض دفعہ ان کو اپنا پاجامہ اُونچا کرنا پڑتا ہے يا بعض دوسرے کاموں میں اپنے ہاتھ بازدیک یہ ہنہ کرنے پڑتے ہیں۔یہی حال مختلف پیشوں کا بھی ہے۔اسی طرح طبیب کے سامنے بعض حالات میں بہت کچھ پردہ ہٹانا پڑتا ہے پھر ماظهر منھا کی حدود پر ملک کا رواج۔سو کٹی ، خاندان کی عزت اور عورت کی سوشل پوزیشن کا بھی بہت اثر ہے۔امیروں کا ماظھر منھا اور ہے بادشاہوں کا اور غریبوں کا اور۔اور پیشہ وروں کا اور جوان عورتوں کا اور لڑکیوں کا اور ادھیڑوں کا اور۔اور بوڑھیوں کا اور۔اس ضمن میں یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اپنا کھیت اور اپنی دکان بھی اپنے گھر کے حکم میں ہی ہے۔یعنی یہ گھروں والا پردہ جیسا اپنے گھر میں رکھا جاتا ہے ویسا ہی اپنی دکان یا اپنے کھیت میں رکھنا چاہیے۔بازار میں سے گزرنے اور شارع عام کا پردہ الگ پہلے بیان ہو چکا۔وہاں خمر کی جگہ جلباب ضروری ہے تا کہ منہ پر گھونگٹ رہے۔