مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 289
YAA رہتے ہیں۔اسی طرح اوڑھنی کا رنگ۔قد، چال آواز۔دوسری زینت عورت کے اپنے جسم کی وہ خصوصیات ہیں جن سے خدا تعالی نے کسی عورت کو خاص طور پر ممتاز کیا ہو۔سر اور سینہ تو ہر عورت کو ڈھالنا ہی ہے کیونکہ بال اور چھاتی بہر حال عورت کی مخصوص زیست ہیں سوائے ضعیفہ کے۔سو ان دو چیزوں کو اوڑھنی سے چھپانے کا حکم تولض سے ثابت ہے۔مگر ان کے سوا خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ ایسی دیتا ہے کہ وہ اس کے لئے خاص اور ممتاز زینت ہوتی ہے۔کسی کی ناک اسی طرح چہرہ کی نمایاں اور مخصوص زمینت ہوتی ہے۔کسی کا تمام چہرہ حسن کی کان ہوتا ہے۔کسی کی گردن جاذب نظر اور نہایت خوبصورت ہوتی ہے۔کسی کا رنگ ایسا سرخ وسفید اور چکدار آب وتاب والا ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کی نظر کا چھا نہیں چھوڑتا۔کسی کی چال اور کسی کی آواز میں سخت کشش ہوتی ہے۔غرض خدا تعالیٰ بعض عورتوں کو بعض بعض اعضاء اور خوبصورتیاں ایسی اعلیٰ اور نمایاں اور فتنے میں ڈالنے والی دیتا ہے کہ وہ اُن کے لئے خاص زینت کا حکم رکھتی ہیں۔مگر یہ سب عورتوں میں نہیں ہوتا۔خاص خاص میں ہوتا ہے۔پس جب یہ معلوم ہو جائے کہ فلاں عورت کے چہرہ کا حسن زینیت خاص کی حد تک پہنچ گیا ہے یا اُس کے فلاں قلال اعضاء اس کے حسن کی زینت ہیں تو ان کو وہ عورت خاص طور پر چھپائے۔سوائے ایسے حالات کے کہ ان کا چھپانا اختیار سے باہر ہو۔مثلاً آواز - چال - قد۔ایسی عورت کا ماظهر منها ہی تین چیزیں ہیں۔باقی جو اوسط صورت شکل کی عورتیں ہیں وہ صرف اپنی نظریں نیچی رکھیں۔زیورات یا بیرونی زینت جیسے ذکر ہو چکا ظاہر نہ کریں۔اپنے زیور نہ چھنکا ئیں۔اور آس پاس رہنے والے مرد بھی اپنی نظریں نیچی رکھیں اور ہر وقت خدا کا خوف دلوں میں رکھیں۔تو فقتوں کا باب بند رہے گا۔بلکہ ایسی زینت نا محرم مرد کو چھوڑ غیر معتبر عورتوں کو بھی نہ دکھائے تاکہ ان کی معرفت کوئی فتنہ پیدانہ ہو۔اور کوئی شریر عورت اس عورت کے حسن کا ذکہ غیروں میں مشہور نہ کرتی پھرے۔