مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 286 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 286

۲۸۵ عورتوں کو تکلیف اور اپنا نہ ہو۔اینا نہ ہونے سے ایک تو یہ مراد ہے کہ بھیڑ وغیرہ میں راستہ آسانی سے مل جائے۔مراد یہ کہ باہر واد حصر ادھر سرک جائیں۔دوسرے یہ کہ چادر ہونے کی وجہ سے جسم ڈھک کر چہرہ اور زینت چھپ جائے گی تو کوئی نا معقول آدمی نہ ان کو تاڑے گا نہ گھور کر دیکھے گا۔اگر عورت ظاہری زینت اور چہرہ پورے طور پر بالکل کھدار کھ کر یا ہر نکلے کی تو شریہ اور بد معاش آدمی اسے تاکے گا۔اس تاکنے اور گھورنے سے ایک شریف عورت کو سخت روحانی ایذا پہنچتی ہے اور اس کا تدارک ایسے ہی لباس سے ہو سکتا ہے جو اس کے زینت اور حسن کو چھپا دے۔جلباب باقی یہ کہ بڑی چادر سے کیا مراد ہے۔اس کا فیصلہ رواج پر آگیا۔اس زمانہ میں عرب میں سادہ چاور کا رواج تھا۔چونکہ اس کا سنبھالنا ذرا مشکل تھا۔اس لئے اس کے بعد اسلامی ممالک میں اس کی جگہ برقعہ نے لے لی۔اب یہ قصے بھی آسانی اور صحت اور موسم کے لحاظ سے طرح طرح کے ہو گئے۔لیکن ہیں سب جلباب میں داخل۔اس زمانہ میں اچھا اور آرام دہ برقعہ وہ ہے جو کوٹ کی طرح ہو اور پیروں کے قریب تک لمبا ہو اور سر پر ٹوپی مع ایک گردن چھپانے والی جھالر کے ہو۔تاکہ سر پہ برقعہ کا بوجھ نہ پڑے اور ہاتھ مفید نہ ہو جائیں۔بس اب باہر نکلنے کا پردہ مشرفا کی عورتوں کا اتنا رہ گیا کہ ایسا بڑا کپڑا اوپر ہو جو خود زینت نہ ہو بلکہ عورت کے حسن اور زینت کو چھپائے اور ضروریات کے مطابق اُسے ایسا کر لیا جائے کہ ہوا بند نہ ہو۔دکھائی اچھی طرح دے گراں نہ ہو۔پیروں میں نہ اُلجھے۔شریعت کی صرف ایک شرط ہے وہ پوری ہو کہ جس طرح کے آرام اور آسائش کی باتیں کوئی اس میں اختراع کر سکتا ہے کر لے۔لوگ اس میں جیبیں تک لگا لیتے ہیں۔یوروپین