مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 263
مه پنج ارکان اسلام اکثر لوگ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ نماز، روزہ، حج ، زکواۃ وغیرہ اعمال صالحہ ہی ہمارا مقصود ہیں جس نے ایسے اعمال کر لئے ہیں وہ اپنے مطلب کو پہنچ گیا۔اور غالباً یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو ہماری ان عبادات کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسے لوگ اپنے اعمال پر بہت فخر کرتے ہیں اور ان کو ہی مدار نجات یقین کرتے ہیں۔حالانکہ یہ اعمال خود مقصود بالذات نہیں ہیں بلکہ ذریعہ ہیں بڑی چیزوں کے حصول کا۔جو نجات و فلاح کا اصل باعث ہیں مثال کے طور پر روزہ کو ہی لے لو۔اللہ تعالٰی نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ روزہ تمھارا مقصود ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ تقویٰ تمھارا مقصود ہے اور روزہ کا حکم صرف اس لئے ہے کہ تم کو تقولے حاصل ہو جائے۔پس ثابت ہوا کہ تقوی اصل چیز ہے اور روزہ اس کے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ مگر عام طور پر لوگ ذرائع اور اسباب کو چھٹے رہتے ہیں۔اصل چیز کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔اور یہی وجہ ہے کہ ترقی اور فوائد سے محروم رہتے ہیں۔روزہ رکھ لیا اور تسکتی پائی کہ مقصود حاصل ہو گیا۔حالانکہ اگر اس روزہ سے تقولی میں ترقی کرتے جب ان کو خوش ہونا چاہیئے تھا۔آگے چل کر میں اس مضمون میں بیان کروں گا کہ نماز، روزہ حج زکوۃ کن باتوں کے لئے کئے جاتے ہیں اور ہمیں ہمیشہ ان اصلی اور ضروری باتوں پہ اپنی توجہ رکھنی چاہیئے۔اگر دہ حاصل ہو رہی ہوں تو سمجھنا چاہیئے کہ ہماری یہ عبادات صحیح لائن پر چل رہی ہیں ورنہ نہیں۔اور یہ کہ ارکان اسلام صرف ذرائع ہیں بعض اور چیزوں کے حاصل کرنے کے جن پر نجات و فلاح منحصر ہے۔اور وہ چیزیں اصل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ دور