مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 255 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 255

۲۵۴ اللہ تعالیٰ کا ایک نام الصبور بھی ہے ایک دن ایک دوست سے کہہ رہا تھا کہ " انسان کی فطرت ایسی ہے کہ اگر کوئی سائل یا حاجت مند بار بار اس کے پاس آتا ہے تو وہ بیزار ہو جاتا ہے۔حتی کہ تنگ ہو کہ یہاں تک کہ دیتا ہے کہ بھائی تو نے تو میرا ناک میں دم کر دیا اور مانگنے چلے آئے ؟ ایسے فقرے تو وہ چندمی روز کے بعد کہنے لگتا ہے۔لیکن اگر خدانخواستہ وہ سائل کچھ دن برابر آثار ہے۔اور اس بات کی کچھ پروانہ کئے۔تو پھر بعض اوقات سخت کلامی اور لڑنے تک کی نوبت بھی آجاتی ہے۔اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ ساری عمر کوئی سائل کسی کے پیچھے پڑا رہے اور دو تحمل سے اس کی بات سنتا ہے اور آنکھ میلی نہ کرم ہے۔خواہ وہ امیر ہو یا بادشاہ اور خواہ سوال چھوٹا ہو یا بڑا۔لیکن خدا تعالٰی کی یہ ایک عجیب صفت ہے کہ ساری عمرون رات اس سے مانگے جاؤ مگر وہ مانگنے سے ناراض نہیں ہوتا۔ایک فقیر نہیں لاکھوں کروڑوں فقیر دن رات کے ہر وقت اور ہر لحظہ میں اس کے مجھے پڑے رہتے ہیں۔مگر اکس کی آنکھ پر میں نہیں آتا۔نہ وہ اکھاتا ہے نہ تنگ ہوتا ہے نہ بیزار۔غرض یہ خدا تعالیٰ کی ایک عجیب صفت ہے۔اور مجھے اب تک اس صفت کا نام اسمائے الہی میں معلوم نہیں ہوا۔ادھر میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا۔اور ادھر معادل میں یہ پڑا کہ ہمارا دو نام میں کا تو ذکر کر رہا ہے۔الصبور ہے یعنی سائلوں سے تنگ نہ آنے والا اور نہ اُن سے اکتانے والا۔بلکہ ہر پیچھے پڑنے والے کی بارہ یار کی پکار کو سہنے والا عالی حوصلہ خداوند۔کوئی دوسرا "