مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 254
۲۵۳ اعمال صالحہ ان باتوں کے سوا جو تیری نظر سے گزریں اور ہزاروں طریقے مغفرت الہی کے اجراء کے ہیں۔اور لاکھوں اعمال ایسے ہیں جن کو حضرت غفور الرحیم پسند کر کے اس شخص پر اپنی مغفرت کا نور چڑھا دیتے ہیں۔کہیں نماز روزہ ، اخلاق پسندیدہ ، بزرگوں کو خوش رکھتا، والدین کی اطاعت ، خاوند کی فرمانبرداری ، یتیموں کی پرورش ، صدقہ و خیرات ، توبہ استغفار تبلیغ ، ذکر اصلی خشیتہ اللہ اور تقولی ، خدا تعالٰی پر امید رکھنا، کہائر سے بچتے رہنا۔بزرگوں کا ادب کرنا دوسروں کے قصور معاف کرنا اللہ تعالیٰ سے محبت رکھنا ، احسان، بکثرت اور محبت کے ساتھ درود پڑھنا، اخلاص ، جہاد، قربانیاں، تلاوت قرآن مجید وغیرہ۔و غرض تمام اچھے طریقے بلکہ اور جملہ نیک اعمال مومنوں کے لئے مغفرت کو جذب کرتے ہیں اور بعض دفعہ اس درگاہ کی نکتہ نوازی ہی انسان کی بخشش کا موجب ہو جاتی ہے۔تیرا پھر کبھی ادھر آنا ہو گا تو باقی مضمون تجھے سناؤں گا۔" فران کی باتیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں کہ وہی بڑا دروازہ جس سے ہم میدان محشر میں داخل ہوئے تھے نظر آنے لگا۔اسے دیکھتے ہی جو ر بودگی مغفرت الہی کے نشہ کی مجھ پر مسئولی تھی وہ جاتی رہی اور میں بیدار ہو گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ گھر میں اپنے پلنگ پر کاغذ قلم لئے یہی مضمون لکھ رہا ہوں۔مگر میں نے اپنے پورے ہوش میں صرف یہ آخری فقرہ لکھا کہ اخر وعوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ