مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 237
گناہوں کو معاف کر سکتا ہے اور ان کے سزا دینے پر بھی قادر ہے۔سوائے فرشتو گواہ رہو میں نے اُسے بخش دیا۔اس کے کچھ دن بعد وہ پھر گناہ کرتا تھا اور رات کو پھر اسی طرح دعا کر تا تھا کہ خدایا میرے گناہ بخش دے اس وقت بارگاه احدیت سے یہ حکم صادر ہوتا تھا کہ میرا یہ بندہ یقین رکھتا ہے کہ میں اس کے گناہ پر گرفت بھی کر سکتا ہوں اور اسے معاف کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہوں، سو تم گواہ رہو کر میں نے اسے پھر بخش دیا۔کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہ پھر گناہ کرتا تھا، اور بعد میں اسی طرح پھر تو یہ انتظار کرتا تھا، اور حضور یہی ارشاد فرماتے تھے کہ میرا یہ بندہ یقین رکھتا ہے کہ میں اس کے گناہ پر پکڑ بھی کر سکتا ہوں اور اسے معاف بھی کر سکتا ہوں۔پس اسی طرح یہ شخص عمر بھر گناہ کرتا رہا اور اس کا اعمال نامہ سیاہ ہوتا رہا۔اب جو کچھ ارشاد ہو کیا جائے۔" فرمایا کہ میں نے تو تین دفعہ کے بعد ہی کہہ دیا تھا۔غَفَرْتُ لِعَبْدِي فَلْيَفْعَلُ مَا شَاءَ میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا ، اب جو جی چاہے کیے۔کیا یہ حکم ریکارڈ میں نہیں آیا ؟ آخر ڈھونڈنے سے اس فران کی نقل بخاری اور سیمیں مل گئی اور اس علم کی خامی ہوگی۔(۱۳) اور آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک شخص کا مقدر میں ہے کرام الکاتبین نے عرض کیا در علاوہ اور قسم کے گناہوں کے اس پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو میری نعش کو جلا کہ آدھی راکھ ہوا میں اڑا دینا اور آدھی سمندر میں ڈال دیا، کیونکہ خدا کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر گرفت کی تو مجھے ایسا عذاب ملے گا کہ