مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 227 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 227

شاید یہ فرشتے ہیں، اور ان سے پوچھا کہ کیا میں اندر جاسکتا ہوں۔انہوں نے کہا ہاں، آج اللہ تعالٰی کی مغفرت کے پر زور مظاہرے ہو رہے ہیں۔بیشک جاؤ اور دیکھ لو۔مگر تمہارے ساتھ ایک سرکاری چوکیدار کا ہونا ضروری ہے ، یہ کہہ کر ان کے افسر نے اس جماعت میں سے ایک کو میرے ساتھ کر دیا، اور کہا کہ ان کا نام غفران ہے۔یہ تمہارے ہمراہ رہ کر تمہیں میدان حشر کی سیر کرائیں گے، اس دوران میں تم استغفار پڑھتے رہنا اور کسی بات کو دیکھ کہ اعتراض نہ کرتا۔پشن کہ جو بہی میں نے اس صحرائے محشر کی طرف قدم بڑھائے تو فرشتہ غفران نے میرا باند پکڑ لیا۔بازو پکڑتے ہی ہیں اور وہ دونوں گویا اُڑنے لگے، اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ جہاں اور جدھر ہم جانا چاہتے ہیں ، پل چھپکتے ہیں جا پہنچتے ہیں۔چلتے چلتے دیکھتا ہوں کہ جہاں تک نظر کام کرتی ہے انسان ہی انسان ہیں، مگر سب کے سب برہنہ سوائے بعض خاص خاص کے جو کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ایک ٹولی یہاں ہے تو دوسری وہاں ہر جگہ جمگھٹے لگے ہیں اور ہر جمگھٹے اور مجمع کے درمیان ایک تراز و یعنی میزان نصب ہے۔اسی طرح جہاں تک نظر کام کرتی تھی یا تو انسان نظر آتے تھے یا میرا نہیں تھیں یا فرشتے۔مگر کیا مجال ہو ذرا بھر بھی غل یا شور ہو۔یوں معلوم ہوتا تھا گویا مُردے کھڑے ہیں اور سوائے اس کے جیسے بولنے کی اجازت ہو۔کوئی لفظ کسی کے منہ سے نہ نکلتا تھا۔ہاں یا غفور یا ستار یا فتقار کے الفاظ ہر طرف سے نہایت دھیمی آواز میں سنائی دیتے تھے اور کبھی کبھی جیب کسی کی آواز نا واجب طور پر بلند ہو جاتی تو معاً ایک طرف سے بگل بجنا ستائی دے جاتا۔وَخَشَعَتِ الْأَمْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ الأَهَما الم (۹) ترجمہ : اور رحمن (خدا کی آواز کے مقابلہ میں (انسانوں کی آواز میں دب جائیں گی پس تو سوائے کھر ٹیسر کے کچھ سُنے گا۔