مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 219 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 219

۲۱۸ در اصل کسی نہ کسی رنگ میں نعمت ہی ہے۔یہ نہیں کہ صرف روٹی کپڑا میرے ہی نعمت ہیں۔ماں بھی نعمت ہے اور باپ بھی بنی بھی نعمت ہے اور استاد بھی۔علم بھی نعمت ہے اور صحت بھی۔یہاں تک کہ موت بھی نعمت ہے۔اور بیماری بھی۔بلکہ شیطان اور جہنم بھی نعمت ہیں۔ہم بعض چیزوں کو جو نعمت ہیں اپنے لئے غلطی کی وجہ سے زحمت بنا لیتے ہیں۔ورنہ مسئلہ ہی ہے کہ ہمارا ایک منعم ہے اور باقی ہر چیز نعمت ہے۔نعمت کو منعم جا نا شرک ہے اور منعم حقیقی کو منعم جانا شکر شکرہ کرنے کے لئے یہ کہنا کافی نہیں کہ خدا کا بیڑا شکر ہے۔مگر عملاً خدا کی شکایت کرتے رہنا۔پس زبان اورول دونوں سے شکر کرنا چاہیے۔یعنی احسان ماننا دل سے اور تفصیلی ذکر زبان سے یہ دونوں لازمی ہیں۔اس لئے انعامات اور احسانات کا گفتے رہناش کہ کی تکمیل کے لئے ضروری ہے۔علاوہ احسان شماری کے ہر چیز کو دیکھ کر انسان سمجھے کہ یہ نعمت ہے۔پھر اس نعمت کے فائدے اپنے لئے اور اپنے متعلقین کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے سوچے۔جب یہ عادت ہو جاتی ہے تو شا کہ اثر خدا کی نئی نئی تمہیں اپنے اوپر پاتا ہے اور ان کو گنتے گنتے تھک جاتا ہے مگر پھر بھی نہیں گن سکتا۔اس حالت کا نام در اصل شکر ہے۔اور شکر کا لازمی نتیجہ ہے محسن کی محبت۔بظاہر مضر اشیاء بھی نعمت ہیں میں نے بیان کیا تھا۔کہ ہمارے چاروں طرف نعمتوں کے ڈھیر کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔اور ہر چیز سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ہماری حقیقی مستم دحسن نہیں ہے۔لیکن جب بعض چیزیں بظا ہر ایڈا اور تکلیف بھی پہنچاتی ہیں۔ان کو ہم کس طرح نعمت کہہ سکتے ہیں ؟ یہ سوال بعض لوگوں کو آسکتا ہے سو واضح ہو کہ ایسی موذی اور مضر چیزوں سے بچانا بھی خدا کا فضل ہے۔اور ایسی مودی چیزیں خود کسی نہ کسی کے لئے نعمت ہوا کرتی ہیں۔مثلاً سانپ کا ت ہر آج کل بعض بیماریوں کے لئے شفا ثابت ہوا ہے۔