مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 188
بے عیب حسین و بے نہایت محسن کوئی نہ ہوا۔نہ ہے۔دموگا اس بن نہ وہ کسی کی ماں ہے۔نہ کسی کا باپ۔نہ اس کی کوئی بیوی ہے۔نہ اولاد نہ کوئی اس کا ہمسر نہ رشتہ دار نہ کوئی اس کا مثل نہ مانند۔نہ وہ کسی کی عبادت کا حاجت مند نہ خدمت کا محتاج غیر محدود ہے۔اور درا الورا۔اس کی ذات صفات اور افعال میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔جو چاہتا ہے۔کرتا ہے اور کر سکتا ہے۔آسمانوں اور زمینوں کا رب۔پہلوں اور پھلوں کا داتا۔دل کے بھیدوں کا واقف۔ہمارے نصور سے بالا تنہ۔رگ جان سے زیادہ قریب فریادی کی فریاد کو پہنچنے والا طبیب شافی کنیل۔تم الوکیل اپنی تمام مخلوقات سے اُن کی استعداد کے مطابق کام کرنے والا بنجات انسانی کے لئے سر زمانہ میں پیامبر اور انبیاء مبعوث کرنے والا۔اور پھر قیامت کے دن ان انسانوں سے اُن کی فطرت عقل علم اور حالات کے مطابق یکمال رعایت۔یاز پریس کرنے والا۔ہر چیز کو ایک اندازہ اور حدیت میں رکھنے والا۔وہ جو کبھی کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا۔وہ جس کا انتقام بھی صرف بندوں کے فائدہ اور اصلاح کے لئے ہے۔وہ جس کی سزائیں اور عارضی اور جزا کثیر اور دائمی ہے۔وہ جس کا دوزخ بھی شفاخانہ ہے اور چند روزہ۔اور جس کی جنت بادشاہی مہمان خانہ ہے اور ابدی۔وہ جس کا رحم تمام مخلوقات پر محیط ہے۔اور جس کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر غالب کوئی نہیں جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور کوئی سفارش کر سکے۔وہ ہر جگہ موجود ہے۔پھر بھی کوئی آنکھ اُسے دیکھ نہیں سکتی۔جسم صورت جہت رنگ، ترکیب محدود ہونے اور حلول کرنے سے پاک۔سوتا ہے۔نہ اونگھتا ہے۔نہ تھکتا ہے۔نہ کمزور ہوتا ہے۔نہ غافل ہے۔نہ زوال پذیر جس کی تمام صفات اس کی ذات کی طرح ازلی اور اید لی ہیں۔اپنی بات کا سچا۔اپنے وعدہ کا صادق۔اپنے دلی میں ترم۔لائق اعتماد۔اور قابل تو کل۔بدی - گناہ شرک اور کفر کو نا پسند کرنے