مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 182
AI کلمه شهادت یعنی وجود باری پر جاری گواهی اسلام کے پانچ ارکان میں سے پہلا رکن کلمہ شہادت ہے یعنی اَشْهَدُ ان لا اله الا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَاشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہوں کہ محمد صلے اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور پیغمبر ہیں۔بغیر اس گواہی کے مسلمان مسلمان نہیں کہلا سکتا۔اگر کوئی اس سے شہادت طلب کرے کہ خدا کے وجود کو ثابت کرد۔تو اس کا فرض ہے کہ جہاں تک اس کی عقل اور سمجھ ہے اس پر اپنی شہادت پیش کرے ورنہ اس کا دعوے بلا دلیل اس کا ایمان بلا اصلیت اور اس کی گواہی با تائیدی واقعات کے ہوگی۔اس لئے ہرمسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے تئیں اس گواہی کے لئے مستعدا در تیار رکھے اور جب بھی ضرورت ہوا سے پیش کرے۔یہ نہ ہو کہ ساری عمر تو اَشْهَدُ اَنْ تَوَالِه الا اللہ کہتے گزر جائے اور جب اس شہادت کے متعلق پوچھاجائے تو بیلیں جھانکنے لگے یا دبی زبان سے اقرار کرنے لگے کہ میرے پاس تو کوئی شہادت موجود نہیں۔اور عوام الناس کی نسبت یہ شہادت اہل علم لوگوں پر اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ الہ تالے نے فرمایا ہے کہ شهد الله أنه لا اله الا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلم تابِما بِالْقِسْطِ (آل عمران : ۱۹)