مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 183 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 183

JAY مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر نہ صرف خود اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے گواہ ہیں۔بلکہ تمام اہل علم مسلمان بھی انصاف پر قائم ہو کہ اس بات کے گواہ ہیں۔یعنی وہ بھی یہی گواہی اپنی طرف سے نہیں کرتے ہیں۔اور یہی گواہی اسلام کا پہلا رکن ہے اور گواہی وہ ہوتی ہے جو محض سنی سنائی نہ ہو بلکہ انسان کو اس کا ذاتی علم بھی ہو۔اور اگر اسے بلا کر شہادت طلب کی جائے۔تو وہ قسم کھا کر دل کے یقین کے ساتھ اسے بیان کر سکے۔یہ گواہی جو باری تعالے کے وجود اور اس کی توحید کے لئے ہے حسب ذیل شقوں منقسم ہے ا۔اس کی فطرت کی گواہی -۲- اس کی عقل کی گواہی جن لوگوں کو وہ اپنے تجربہ سے راستباز یقین کرتا ہے ان کی گواہی ہ۔اس کے علم کی گواہی ہ اس کی آپ بیتی یا اپنی ذاتی گواہی ان واقعات کی گواہی جو اس نے دوسروں پر گزرتے دیکھے۔اور وہ خود بھی ان باتوں کا شاہد ہے۔عالم روحانی کی کیفیات جن سے براہ راست ذات باری کی رویت کلام کے رنگ ہیں ظاہر ہوتی ہے۔اور جہاں علی وجہ البصیرت کوئی بندہ اپنے بعض تو اس کے ساتھ احساس صفات باری تعالیٰ کر لیتا ہے۔اس کے بعد سمجھانے کے لئے بطور نمونہ نہایت مختصر اور سرسری شہادت میں اپنی طرف سے اس معاملہ میں پیش کرتا ہوں۔فطرت کی شہادت میری فطرت یہ چاہتی ہے کہ چونکہ میں بے علم۔بد اخلاق کمزور - حاجت مند اور مریض ہوں۔اس لئے کوئی ایسی طاقتور ہستی ہونی چاہیے جو مجھ پر رحم کرے۔میری کمزوریاں