مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 156 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 156

۱۵۵ کہ نہ کسی تسبیح کے بکھرنے کی نوبت آئی اور نہ کسی زنار کے ٹوٹنے کی صدا سنائی دی۔یہ بات آپ کے کمال فن کا زندہ ثبوت ہے۔اس لئے تصویر جاناں ہم نے کچھوائی نہیں یہ یہ ایک ایسی مدلل نظم ہے جو آپ کی قادر الکلامی اور حقیقت نگاری کو ایک نئے روپ میں نگاہوں کے سامنے لاکر قارئین کو محو حیرت کہ دیتی ہے۔"۔منظومات کے علاوہ حضرت میر صاحب نے نہایت پاکیزہ جذبات کی حامل عارفانہ غزلیات بھی کہی ہیں جو محبت الہی اور عشق حقیقی میں ڈوب کر تحریر کی گئی ہیں۔اور یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اپنے تسلسل اور مقصدیت کے لحاظ سے یہ غزل نما نظم کہلانے کی زیادہ مستحق ہیں کیونکہ ان کا مرکزی نقطہ خیال عشق حقیقی کے سوا کچھ نہیں نہیں مسلسل غزلیات کے ضمن میں تو کیا آئے " ہو نہیں سکتا ، عشق دمشک " کہ جتنے رنگ مخفی ہیں محبت سب کی میںتقل ہے ، " محبت " دن مدتوں میں آئے ہیں پھر اہل حال ہے۔وہ جو رہ تجھے پسند ہے اس پر چلا مجھے ، " آئے گی مرے بعد ، تمہیں میری وفا یاد ، چشم بینا حسن خانی کی تماشائی نہیں۔" وغیرہ وغیرہ پیش کی جاسکتی ہیں۔لیکن واعطانه پند و نصائح با ناصحانه تلفین عمل کے لئے قطعات درباعیات کی اصناف زیادہ موروثیت رکھتی ہیں اور شاعر کو اپنا مافی الضمیر ادا کرنے میں تنگی محسوس نہیں ہوتی۔میرانیس، مرزا دبیر ، اکبر الہ آبادی ، امجد حیدر آبادی، حکیم اختر انصاری اکبر آبادی، جوش ملیسائی اور جوش ملیح آبادی اور دور موجودہ میں راغب مراد آبادی اور رئیس امروہوی نے ان اصناف میں اپنی جودت طبع کے خوب خوب جو ہر دکھائے ہیں۔ہمارے میر صاحب بھی اس میدان میں اتر ہے ہیں اور آپ کے اشہب قلم کی جولانیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ اس میدان کے بھی شہسوار ہیں۔آپ نے اپنے قطعات میں بعض فارسی مصرعے جو ضرب الامثال کی حیثیت رکھتے تھے استعمال کئے ہیں اور ان کو ایسے سلیقے